برکشائر ہیتھ وے: منافع کم، خریداری تیز
دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں میں سے ایک برکشائر ہیتھ وے نے ہفتہ 7 نومبر کو اپنی تیسری سہ ماہی کے نتائج جاری کیے، جن میں منافع میں کمی کے ساتھ ساتھ اپنے حصص کی ریکارڈ خریداری بھی سامنے آئی۔ کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں 6 فیصد کمی آئی اور یہ 12.71 ارب ڈالر رہا، جبکہ خالص منافع 28 فیصد کم ہو کر 22.11 ارب ڈالر رہا۔ اس کے باوجود کمپنی کی آمدنی 11 فیصد بڑھ کر 105.65 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
حصص کی خریداری میں تیزی
سہ ماہی کی سب سے نمایاں خبر کمپنی کی جانب سے اپنے حصص کی واپس خریداری رہی۔ برکشائر ہیتھ وے نے جولائی سے ستمبر کے درمیان تقریباً 9.6 ارب ڈالر کے اپنے حصص واپس خریدے، اور اکتوبر میں مزید تقریباً 2 ارب ڈالر کی خریداری کی۔ رواں سال کے پہلے نو ماہ میں مجموعی خریداری تقریباً 14.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں کمپنی نے کوئی حصص واپس نہیں خریدے تھے۔ خریداری کے بعد ستمبر کے اختتام پر کمپنی کے پاس نقدی اور مساوی اثاثے 356.9 ارب ڈالر رہ گئے، جو چھ ماہ قبل 380.2 ارب ڈالر تھے۔
انشورنس کاروبار دباؤ میں، ریلوے مضبوط
منافع میں کمی کی سب سے بڑی وجہ انشورنس کا کاروبار رہا، جہاں انڈر رائٹنگ منافع 43 فیصد گر کر 1.35 ارب ڈالر رہ گیا۔ کار انشورنس کمپنی گائیکو کا منافع 45 فیصد کم ہو کر 982 ملین ڈالر رہا، کیونکہ دعووں کی لاگت اور اخراجات بڑھ گئے۔ دوسری طرف ریلوے کاروبار بی این ایس ایف کا منافع 19 فیصد بڑھ کر 1.73 ارب ڈالر رہا، جبکہ مینوفیکچرنگ، سروسز اور ریٹیل کا منافع تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 4.04 ارب ڈالر ہو گیا۔
گریگ ایبل کا دور
یہ سہ ماہی نئے چیف ایگزیکٹو گریگ ایبل کے دور کی تیسری سہ ماہی تھی۔ 64 سالہ ایبل نے سال کے آغاز میں وارن بفت کی جگہ لی، جنہوں نے 60 سال تک کمپنی کی قیادت کی۔ 96 سالہ بفت اب چیئرمین ایمریٹس ہیں، جبکہ ان کے بیٹے ہاورڈ بفت ستمبر میں چیئرمین منتخب ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایبل کی جانب سے حصص کی تیز خریداری اس بات کی علامت ہے کہ وہ کمپنی کے حصص کو ان کی اصل قیمت سے کم سمجھتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے خالص منافع میں کمی کی وجہ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بھی رہا، جسے برکشائر خود سہ ماہی بنیادوں پر بے معنی قرار دیتا ہے۔ تفصیل یہاں پڑھیں: ہرمز حملے کے بعد پاکستان میں گیس بحران گہرا۔ عالمی معیشت کی دیگر خبریں یہاں پڑھیں: پاکستان کا بیرونی قرضہ 10 سال میں دگنا، 135 ارب ڈالر۔
ذرائع: رائٹرز، ٹپ رینکس، گلوبل اکانومی چارٹس (7–8 نومبر 2026)۔