امریکا کا ایران پر حملہ، قشم جزیرے پر فضائی دفاع تباہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے جمعے 6 نومبر کو ایران کے قشم جزیرے پر محدود حملے کیے اور وہاں نصب ایرانی فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جزیرے کے سوزا علاقے میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ نیم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ نے جمعے کی شام فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حملے کو “معمولی” قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں: “ہم معمولی حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک چھوٹا سا فضائی دفاعی آلہ بنایا تھا اور ہم نے اسے تقریباً 15 منٹ، شاید پانچ منٹ میں تباہ کر دیا۔”
امریکی صدر نے اسی موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں “بہت پیش رفت” کر چکا ہے۔ “ہم ان سے ابھی بات کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔
ایران کا ردعمل
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایرانی فوج کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے قشم جزیرے کے اوپر ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو مار گرایا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ہفتے 7 نومبر کو ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے خبردار کیا کہ ایرانی مسلح افواج اس وقت فروری میں جنگ شروع ہونے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں اور کسی بھی مزید امریکی حملے کا فوری جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایرانی فورسز جغرافیائی پابندیوں کے بغیر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دھماکوں کی خبروں پر ردعمل میں کہا کہ صورتحال “نسبتاً پرسکون” ہے۔ سینٹ کام کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ خبروں سے آگاہ ہیں اور اس سے زیادہ کچھ کہنا نہیں ہے۔
قطر کی ثالثی جاری
اسی دوران قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں صرف ان لوگوں کے مفاد میں ہیں جو جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔ قطری وزیر خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “ایسے جھوٹے دعووں کو فروغ دینا صرف جنگ کو طول دینے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے خواہاں لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔”
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے جمعے کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک تقریب میں کہا کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ بڑی علاقائی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ان کے بقول پچھلے چند ہفتوں سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور “تہران میں دانشمند آوازوں کی بدولت” صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچایا گیا۔
پاکستان بھی اس ثالثی کی کوششوں میں شریک ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو راولپنڈی میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستان اس معاملے پر “محتاط طور پر پرامید” ہے۔ مزید پڑھیں: ایران امریکا ثالثی: پاک فوج محتاط طور پر پرامید — link https://ntmnews.online/?p=3963
پس منظر
قشم جزیرہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ پیر 2 نومبر کو بھی قشم اور ہنگام جزائر اور بندر عباس کے قریبی علاقے میں دھماکوں کی خبریں آئی تھیں، جنہیں امریکی حکام نے “دفاعی حملے” قرار دیا تھا۔
جمعے کے حملے منگل کے امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد پہلے حملے ہیں، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو شکست ہوئی۔ ٹرمپ نے انتخابی نتائج کا ذمہ دار ایران جنگ کو ٹھہرایا تھا۔ جمعرات کو انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو ایران کا باقی بچا ہوا حصہ “تباہ” کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی دوران سینٹ کام نے جمعے کی رات ایکس پر اعلان کیا کہ امریکا ایران کے ایٹمی پروگرام، اس کی تنصیبات، ساز و سامان اور اس سے وابستہ افراد کے بارے میں معلومات پر 20 ملین ڈالر تک کا انعام اور ممکنہ طور پر نقل مکانی کی سہولت دے گا۔
ایران میں ایٹمی تنصیبات کے قریب آیوڈین گولیاں تقسیم کرنے کی خبریں بھی اسی ہفتے سامنے آئی تھیں، جن سے خطے میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔ مزید پڑھیں: ایران: ایٹمی حملے کے خدشے پر آیوڈین گولیاں تقسیم — link https://ntmnews.online/?p=3957
آگے کیا ہوگا، اس کا دارومدار قطر کی ثالثی اور واشنگٹن تہران مذاکرات پر ہے، لیکن ایران کی تازہ دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
ماخذ: الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی فیڈرل