اسپین ٹرین حادثہ: میڈرڈ میں احتجاج، پولیس سے جھڑپ
اسپین میں 68 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے ٹرین حادثے کے بعد دارالحکومت میڈرڈ میں احتجاجی مظاہرہ ہوا جو پولیس سے جھڑپ میں بدل گیا۔ مظاہرین نے وزارت ٹرانسپورٹ کے باہر جمع ہو کر وزیراعظم پیڈرو سانچیز اور وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوئنٹے کے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
یہ احتجاج 28 اکتوبر کی شب ہوا، اسی روز جب وسطی اسپین کے علاقے اوردا کے قریب دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کے مطابق مظاہرے میں تقریباً 1500 افراد شریک ہوئے، جبکہ دیگر اندازوں کے مطابق تعداد 500 سے 1500 کے درمیان تھی۔
احتجاج کیسے پرتشدد ہوا
رپورٹس کے مطابق مظاہرہ ابتدا میں پرامن تھا، لیکن جب کچھ مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر وزارت کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو کشیدگی بڑھ گئی۔ مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور شعلے پھینکے، جس کے جواب میں فسادات پر قابو پانے والی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس چلائی۔ پولیس نے بالآخر اجتماع کو منتشر کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق اس مظاہرے کی کال انتہائی دائیں بازو کے گروپوں فالانجے اور نوجوان تنظیم ریویلٹا نے دی تھی۔ اس سے قبل وکسی پارٹی سے منسلک ٹریڈ یونین سولیداریڈاد کی جانب سے سیبیلس اسکوائر پر ایک الگ مظاہرہ ہوا، جہاں شرکاء نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور “بدعنوانی مارتی ہے” جیسے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ یہ ریلی بغیر کسی بڑے واقعے کے ختم ہو گئی۔
تین روزہ قومی سوگ
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اوردا میں ایمرجنسی کمانڈ سینٹر کے دورے کے دوران 29 سے 31 اکتوبر تک تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی مدد، حادثے کے حالات کا تعین اور ریلوے کی حفاظت کو مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات قرار دیا۔ سانچیز نے کہا کہ “آج پورا اسپین سوگوار ہے” اور اسے ایک “خوفناک المیہ” قرار دیا۔
اسپین بھر کی بلدیات نے 28 اکتوبر کی شب 8 بجے متاثرین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اسپین کے شاہی خاندان نے بھی متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا، جبکہ میڈرڈ کے علاقائی خون عطیہ مرکز نے عطیات کی فوری اپیل جاری کی تھی۔
حادثہ کیسے ہوا
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح ٹولیڈو صوبے میں پیش آیا، جب سرکاری کمپنی رینفے کی تیز رفتار ٹرین نے رکی ہوئی نجی کمپنی آئریو کی ٹرین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ تصادم سے آئریو ٹرین کے دو ڈبے اور رینفے ٹرین کا اگلا حصہ پٹری سے اتر گیا۔ علاقائی حکومت کاسٹیلا لا مانچا نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ مزید 58 افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ دیگر رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ٹرین مینجمنٹ سسٹم میں خرابی کے باعث 60 سے 69 کلومیٹر طویل حصے میں ٹرینیں رک گئیں تھیں، جس کے بعد ٹریفک کنٹرول سینٹر نے دستی حکم کے تحت رینفے ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دی۔ وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوئنٹے نے ان حالات میں ٹریفک بحال کرنے کے فیصلے کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ حادثے کی حتمی وجہ تاحال سرکاری طور پر طے نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
دوسرا بڑا حادثہ، سیاسی دباؤ
یہ اسپین میں دس ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسرا مہلک تیز رفتار ٹرین حادثہ ہے۔ جنوری 2026 میں جنوبی اسپین میں ایڈاموز کے قریب ایک ٹرین کے پٹری سے اترنے سے 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سانچیز نے کہا کہ دونوں حادثات کی وجوہات بظاہر غیر متعلقہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن اگر حفاظتی نظام میں کوئی خامی یا غفلت پائی گئی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
حادثہ 29 نومبر 2026 کو ہونے والے قومی انتخابات سے صرف چار ہفتے قبل پیش آیا ہے۔ وزیراعظم نے انتخابی مہم معطل کر دی ہے، جبکہ اپوزیشن پیپلز پارٹی نے بھی اپنے انتخابی پروگرام منسوخ کر دیے ہیں۔ ریل ڈرائیوروں کی یونین سیماف نے ریلوے کی حفاظت کے دفاع میں ہڑتال کا بھی اعلان کیا تھا، جس سے حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: اسپین ٹرین حادثہ: ہلاکتیں 68، کنٹرول سینٹر کی غلطی اور اسرائیل میں تعطل برقرار: نیتن یاہو نگراں وزیراعظم رہیں گے۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، قاز انفارم، منی کنٹرول، این ڈی ٹی وی — 29 اکتوبر 2026۔