اسلام آباد تعلیمی اصلاحات: 60 روز میں خودمختار اتھارٹی کا منصوبہ
وفاقی حکومت اسلام آباد میں اسکول اور کالج کی تعلیم کو منظم کرنے کے لیے ایک خودمختار ادارہ قائم کرنے جا رہی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ 60 روز کے اندر اس خودمختار تعلیمی اتھارٹی کے لیے قانون سازی اور منتقلی کا روڈ میپ تیار کیا جائے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد کی تعلیمی اصلاحات سے متعلق مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر اصلاحات
احسن اقبال نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار اور قابل عمل اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور خودمختار تعلیمی اتھارٹی کے تصور کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد اسلام آباد کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا اور اسے اصلاحات کا نمونہ بنانا ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ قانون سازی اور منتقلی کا روڈ میپ تیار کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ منتقلی کے دوران فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) کا کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
اتھارٹی کیسے کام کرے گی
مجوزہ اتھارٹی کا بورڈ آف گورنرز آزاد اکثریت پر مشتمل ہوگا، جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر میرٹ پر کیا جائے گا۔ اتھارٹی کو انتظامی اور آپریشنل خودمختاری حاصل ہوگی اور اس کا دائرہ اسلام آباد میں تعلیم فراہم کرنے والے تمام اداروں تک ہوگا۔
اصلاحاتی خاکے میں آٹھ اہم موضوعات شامل ہیں: گورننس اور ادارہ جاتی ڈھانچہ، محفوظ اسکول، معیارات اور بنیادی ڈھانچہ، مالی وسائل اور اسکول سطح کی خودمختاری، اساتذہ اور اسکول قیادت، نصاب، تدریس اور بنیادی تعلیم، جائزہ، ڈیٹا اور احتساب، اور رسائی، مساوات اور طلبہ کی فلاح۔
1100 اساتذہ کی بھرتی کا جائزہ
احسن اقبال نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 1100 اساتذہ کی بھرتی کے عمل کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی قابل نوجوان پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کے لیے معاہدے کی بنیاد پر بھرتی کے ماڈل پر بھی غور کیا جائے۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز، پارلیمانی سیکریٹری برائے تعلیم وجیہہ قمر، سیکریٹری تعلیم، پلاننگ کمیشن کے سوشل سیکٹر اور گورننس ونگ کے ارکان، متعلقہ محکموں کے نمائندے اور نجی شعبے کے سینئر ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔
اعلیٰ تعلیم تک رسائی صرف 13 فیصد
احسن اقبال نے ایک الگ تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی صرف 13 فیصد تعداد کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہے، جبکہ پڑوسی ملک میں یہ شرح 30 فیصد، بنگلہ دیش میں 25 فیصد اور چین میں 60 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی سرمائے کی ترقی پر زیادہ بحث کی ضرورت ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بلوچستان میں بھی اہم پیش رفت جاری ہے — بلوچستان کے سات اضلاع میں دانش اسکولز کی تعمیر تیز کر دی گئی ہے (link: https://ntmnews.online/?p=3945) — جبکہ پنجاب میں چھ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرریوں کے خلاف اپیل (link: https://ntmnews.online/?p=3965) بھی سامنے آئی ہے۔
ماخذ: ڈان، 7 نومبر 2026؛ دی نیشن، 7 نومبر 2026؛ گلوبل نیوز پاکستان، 7 نومبر 2026؛ سی ڈبلیو پاکستان، 7 نومبر 2026