پولینڈ بحران: صدر طیارہ موڑ کر واپس، آئینی عدالت پر ہنگامہ
پولینڈ میں آئینی عدالت کے صدر کی معطلی نے ملک کو ایک نئے آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ صدر کارول ناوروکی نے سینیگال کا سرکاری دورہ ادھورا چھوڑ کر اپنا طیارہ واپس موڑ لیا اور 31 اکتوبر کی رات گئے وارسا میں آئینی عدالت کی عمارت میں داخل ہو گئے، جبکہ عمارت کے باہر مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے۔ پولیس کے مطابق تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
بحران کیسے شروع ہوا
30 اکتوبر کی شام آئینی عدالت کی جج انا کوروِن پیوٹروسکا نے عدالت کے صدر بوگدان شویچکوسکی اور نائب صدر بارٹلومیے سوچانسکی کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم عدالت کی موجودہ قیادت نے اس حکم کو مسترد کر دیا اور کہا کہ شویچکوسکی ہی عدالت کے صدر ہیں۔ عدالت کے سرکاری بیان میں اس پیش رفت کو بغاوت کی کوشش قرار دیا گیا۔
اس کے بعد پولیس نے عدالت کی عمارت کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا۔ مظاہرین نے حفاظتی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی اور کچھ نے پولیس پر اشیا پھینکیں، جس پر پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیا۔ مظاہرین میں حزب اختلاف کی قدامت پسند جماعت قانون و انصاف (پی آئی ایس) کے حامی شامل تھے، جنہوں نے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کے خلاف نعرے لگائے اور حکومت پر عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا الزام لگایا۔
صدر کا طیارہ واپس موڑنا
صدر ناوروکی اس وقت سینیگال کے سرکاری دورے پر جا رہے تھے جب انہیں بحران کی خبر ملی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایسے لمحے میں صدر کو پولینڈ میں ہونا چاہیے، اس لیے وہ سینیگال کی پرواز ادھوری چھوڑ کر واپس آ رہے ہیں۔ وارسا پہنچ کر انہوں نے صدارتی محل میں شویچکوسکی اور عدالت کے پہلے چیف جسٹس سے ملاقات کی، اور پھر رات ایک بجے کے قریب عدالت کی عمارت میں داخل ہو گئے۔
رپورٹوں کے مطابق صدر کے ساتھ عدالت کے نائب صدر بھی عمارت میں داخل ہوئے، جبکہ موجودہ پارلیمنٹ سے منتخب ہونے والی ججوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ صدر نے ان ججوں سے کہا کہ وہ آئینی عدالت کے جج نہیں ہیں۔ یہ واقعہ پولینڈ میں عدلیہ پر جاری طویل سیاسی کشمکش کی تازہ ترین کڑی ہے۔
پس منظر: عدلیہ پر سیاسی جنگ
پولینڈ میں آئینی عدالت گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی تنازع کا مرکز رہی ہے۔ ٹسک کی یورپ نواز حکومت 2023 میں اقتدار میں آئی تھی اور اس نے عدلیہ کی آزادی بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کی کوششوں کو پی آئی ایس سے منسلک صدور کے ویٹو نے روکا۔ شویچکوسکی کو پی آئی ایس حکومت کے دور میں عدالت کا سربراہ بنایا گیا تھا، اور ٹسک حکومت ان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے منتخب ججوں کو عہدہ سنبھالنے سے روک رہے ہیں۔
دوسری جانب صدر ناوروکی اور پی آئی ایس کا کہنا ہے کہ حکومت عدالت پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کرزیسٹوف بوساک نے صدر کے اقدام کو کامیابی قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ تعطل ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران پولینڈ کے رومانیہ میں سفیر نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، جس سے بحران کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری پہلی خبریں کینیڈا یورپی یونین اتحاد، گہری شراکت داری کا اعلان (https://ntmnews.online/?p=2879) اور فرانس میں آج بڑے مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات (https://ntmnews.online/?p=2886) بھی پڑھیں۔
ماخذ: الجزیرہ، ٹائمز آف اسرائیل، سی این این اور بزنس ٹوڈے کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں۔