پاکستان کا اقوام متحدہ میں طالبان کو سخت انتباہ

0

پاکستان نے اقوام متحدہ میں طالبان حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، اور گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔ یہ بیان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں افغانستان سے متعلق مباحثے کے دوران دیا گیا، جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بھی طالبان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سخت تنقید کی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا موقف

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق، انسانی حقوق کونسل کے افغانستان سے متعلق انٹرایکٹو ڈائیلاگ میں پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ طالبان دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین پر بلا روک ٹوک کام کرنے دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروپوں کو بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اور وہ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ان گروپوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی ملی بھگت اور فعال حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کے سامنے خاموش نہیں بیٹھ سکتا اور اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

4,700 سے زائد پاکستانیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

محمد جواد اجمل نے مباحثے میں بتایا کہ صرف گزشتہ تین برس میں افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد بے گناہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت کئی گروپ افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں ریکارڈ کا حصہ بنے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال پر توجہ دے۔

اقوام متحدہ کے ماہر کی طالبان پر تنقید

دوسری جانب، افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقتدار پر قبضے کے پانچ برس بعد بھی طالبان نے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو واپس لینے کی کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، طالبان نے پابندیوں میں مزید سختی کی ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر۔

بینیٹ کی رپورٹ میں من مانی گرفتاریوں، تشدد، جنسی تشدد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں، معذور افراد کو نظرانداز کرنے اور نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے خلاف امتیاز کا بھی ذکر ہے۔

خواتین کے حقوق پر پاکستان کا نکتہ

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال طالبان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مسلسل چشم پوشی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق، خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی آزادیوں اور وقار سے محروم کیا جا رہا ہے، جو اسلامی قانون اور مسلمانوں کی روایات کے بھی منافی ہے۔

اجمل نے جولائی میں اسلام آباد میں منعقدہ خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا حوالہ دیا، جس میں اسلامی تعاون تنظیم نے اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا تھا۔ اس اعلامیے میں طالبان کی خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ پابندیاں اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

عالمی برادری سے مطالبہ

رچرڈ بینیٹ نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے گریز کریں، جب تک کہ انسانی حقوق میں قابل تصدیق بہتری نہ آئے۔ ان کے مطابق، حالیہ احکامات نے خواتین کے حقوق کو مزید کمزور کیا ہے، ان کے خلاف تشدد کو ممکن بنایا ہے اور بدسلوکی والے رشتوں سے نکلنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں بچوں کی شادیوں کی اجازت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے بیان اور اقوام متحدہ کے ماہر کی رپورٹ نے افغانستان کی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھا جائے گا کہ عالمی برادری اس معاملے پر کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: انگور اڈا میں پاک فوج کا جوابی وار (https://ntmnews.online/?p=2837) اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ ناکام (https://ntmnews.online/?p=2854)۔

ماخذ: ڈان، دی نیشن — 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *