لوئر دیر میں خسرہ: 5 بچے جاں بحق

0

خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں خسرے کی وبا نے 5 کمسن بچوں کی جان لے لی ہے جبکہ درجنوں دیگر بچے اس مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 2 سے 7 سال کے درمیان تھیں۔ تیمرگرہ کے نواحی علاقوں گھوڑا بانڈہ اور کھوڑا بانڈہ میں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں متاثرہ بچوں کو ضلع کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

وبا کیسے پھیلی اور علامات کیا ہیں

مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ بچوں میں خسرے کی عام علامات ظاہر ہوئی ہیں جن میں تیز بخار، جسم پر دانے اور سانس لینے میں شدید دشواری شامل ہے۔ خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل مرض ہے جو خاص طور پر کمسن بچوں کو متاثر کرتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر نمونیا اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ دور دراز پہاڑی بستیوں میں صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی کے باعث وبا پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا ہنگامی ردعمل

اموات اور بڑھتے کیسز کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر لوئر دیر بشارت احمد اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے سوگوار خاندانوں سے ملاقات کی، اظہار تعزیت کیا اور یقین دلایا کہ انتظامیہ اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے زور دیا کہ بچوں کو خسرہ، پولیو اور دیگر قابل انسداد امراض کے خلاف بروقت ویکسین لگوانا ناگزیر ہے، اور متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن کی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

ملک بھر میں خسرے کی تشویشناک صورتحال

یہ واقعہ ملک میں خسرے کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی ایک اور کڑی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں ملک بھر میں خسرے سے 71 بچے جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے 40 کا تعلق سندھ سے تھا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ویکسین سے بچاؤ کے قابل امراض کے بھاری بوجھ اور ان بچوں کی بڑی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے جنہیں ابھی تک ایک بھی ویکسین نہیں لگی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2025 میں پاکستان میں خسرے کے 17 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026 کے پہلے 3 ماہ میں 4,541 کیسز کی تصدیق ہوئی جن میں سے 1,712 کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔

مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1831
مزید پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=1342

ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون اور اے پی پی، 25 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *