فرانس میں آج بڑے مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

0

فرانس میں ہفتے 31 اکتوبر کو مہنگائی اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ لارین نونیز نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کا دن بدامنی کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اور کسی بھی گڑبڑ کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا سخت پیغام

وزیر داخلہ لارین نونیز نے اس ہفتے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہر دستیاب اہلکار میدان میں ہوگا تاکہ کسی بھی گڑبڑ کا انتہائی سخت جواب یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکام کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ مظاہرین ہالووین کے ماسک پہن کر اپنی شناخت چھپا سکتے ہیں، تاہم قانون پہلے سے پولیس کو یہ اختیار دیتا ہے کہ امن عامہ کو خطرہ ہو تو چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگائی جا سکے۔ امریکی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مظاہروں یا بڑے اجتماعات والے علاقوں سے دور رہیں۔

مظاہروں کی وجہ کیا ہے

فرانس میں مظاہروں نے ستمبر کے آخر میں اس وقت زور پکڑا جب صدر ایمانوئل میکرون کی اقلیتی حکومت نے 2027 کے بجٹ پر بات چیت شروع کی۔ فرانس کا عوامی قرضہ ملکی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس خرچ کم کرنے کے سوا زیادہ گنجائش نہیں رہی۔ اسکولوں کی خستہ حالت، کلاسوں میں رش اور یونیورسٹی داخلوں کے غیر منصفانہ نظام پر ناراض طلبہ کے ساتھ ٹریڈ یونینز اور دوبارہ سرگرم ہونے والی ییلو ویسٹ تحریک بھی مہنگائی کے خلاف میدان میں آ گئی ہے۔

دو ہفتے قبل فسادات کا پس منظر

دو ہفتے قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران فسادات اور لوٹ مار نے سیکیورٹی فورسز کو حیران کر دیا تھا، جس میں فرانس کے کئی شہروں میں دکانیں، سرکاری عمارتیں اور کاروبار تباہ ہوئے۔ پیرس کی مشہور شاپنگ سڑکوں پر اب بھی دکانیں لکڑی کے تختوں اور حفاظتی جنگلوں سے ڈھکی نظر آتی ہیں۔ اس سے قبل ہونے والی لوٹ مار میں ہرمیس، لوئی ووٹن اور بربری جیسے لگژری برانڈز کی دکانیں بھی نشانہ بنیں۔ چیمبر آف کامرس کے اندازے کے مطابق دکانداروں کا نقصان ایک ارب یورو سے زیادہ ہے، جبکہ دیگر اندازوں میں غیر بیمہ شدہ نقصان اور ضائع شدہ آمدنی شامل کر کے یہ رقم دگنی بتائی جاتی ہے۔

احتجاج یورپ بھر میں پھیل رہا ہے

فرانس کے احتجاج نے یورپ کے دیگر ملکوں کے نوجوانوں کو بھی متاثر کیا ہے اور ہفتے کو جرمنی کے 30 سے زیادہ شہروں میں بھی مظاہرے طے ہیں۔ اٹلی میں بھی جمعے کو طلبہ اور مزدوروں نے مہنگائی اور اسکولوں کے لیے زیادہ فنڈز کے مطالبے پر بڑے مظاہرے کیے، جن میں ٹریڈ یونین یو ایس بی کے اندازے کے مطابق 10 سے 15 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ فرانس کی حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات اور ایندھن کی قیمتوں میں نرمی کے وعدے بھی بے چینی کم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سیاسی اثرات اور معیشت پر دباؤ

بدامنی نے انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کو سیاسی فائدہ پہنچایا ہے جو اپریل کے صدارتی انتخابات سے قبل رائے شماریوں میں آگے ہیں، جبکہ میکرون کے ممکنہ وسطی جانشین ابھی تک تقسیم کا شکار ہیں۔ فرانسیسی معیشت کے لیے بھی یہ مشکلات نیا دھچکا ہیں، کیونکہ جمعے کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق معیشت تیسری سہ ماہی میں پہلے ہی سکڑ رہی تھی۔ پیرس کے نواحی علاقے نوژاں سر مارن کے 15 سالہ طالب علم ایرون برتھیے ڈی گراندری نے، جو مسلسل تیسرے ہفتے مظاہرے میں شریک ہونے جا رہے ہیں، کہا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ نوجوان فرانس کا مستقبل ہیں، لیکن اگر مستقبل کے پاس وسائل نہیں تو فرانس تباہ ہو جائے گا۔ حکومت اس دوران ایک متنازع قانون بھی آگے بڑھا رہی ہے جس کے تحت فسادیوں کو اپنے یا اپنے گروہ کے نقصان پر 10 ہزار یورو تک جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض وکلاء نے پرامن احتجاج کے حق کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ فرانس میں احتجاجی لہر کی پیش رفت یہاں اور یورپی سیاست کی تازہ صورتحال یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: رائٹرز 31 اکتوبر 2026 اور این ڈی ٹی وی 31 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *