غزہ کے لیے 110 بندرگاہوں پر عالمی ہڑتال، 22 ممالک شریک

0

دنیا بھر میں ڈاک اور بندرگاہوں کے مزدوروں نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو غزہ کے لیے ایک عالمی ہڑتال کی، جس میں 22 ممالک کی 110 سے زائد بندرگاہوں کی 25 سے زائد ٹریڈ یونینز شریک ہوئیں۔ “ڈاک ورکرز ڈو ناٹ ورک فار وار” کے نام سے منائے جانے والے اس عالمی یوم عمل کا مرکزی مطالبہ فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کا فوری خاتمہ اور تمام سامراجی جنگوں کا خاتمہ ہے۔ منتظمین نے اسے تاریخی پیمانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔

ہڑتال کہاں اور کیسے ہوئی

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہڑتالیں معمول کے اوقات کار میں ہوئیں، جب کہ فرانس، اٹلی، بھارت، یونان اور ترکیہ میں 24 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ مراکش، قبرص اور دیگر بندرگاہوں پر دو گھنٹے تک کی ہڑتال کا اعلان ہوا۔ اٹلی میں یونین نے عام ہڑتال کی کال دی، اور یونان میں دیگر شعبوں کے مزدوروں کو بھی بندرگاہوں کے مزدوروں کے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ شریک ممالک میں بھارت، سویڈن، ڈنمارک، آسٹریلیا، برازیل، میکسیکو، یوراگوئے اور امریکا کا مغربی ساحل بھی شامل ہیں۔

مطالبات کیا ہیں

یونینز نے اپنے بیان میں 1967 کی سرحدوں کے اندر، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنائے ہوئے، عالمی برادری کی تسلیم شدہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، مشرق وسطیٰ اور ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جارحانہ جنگوں کے خاتمے، اور کیوبا، وینزویلا و سوڈان کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی مزدور تحریک نے ہڑتال کی توثیق کرتے ہوئے یونینز سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے، نسلی امتیاز اور جنگ میں ریاستی، کارپوریٹ اور ادارہ جاتی شراکت ختم کرنے کے لیے بائیکاٹ، سرمایہ کاری واپسی اور پابندیوں (بی ڈی ایس) کا دباؤ بڑھائیں۔

بندرگاہوں کا اسلحہ ترسیل سے تعلق

اسلحہ کی ترسیل کے راستوں پر تحقیق کرنے والی مہم “نو ہاربر فار جینوسائیڈ” کے مطابق، اٹلی کی جینوا، لیورنو اور جیویا تاورو، فرانس کی مارسیلز، یونان کی پیرائیس اور مراکش کی طنجہ سمیت کئی شریک بندرگاہوں کا اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل سے ثابت شدہ تعلق ہے۔ اس مہم کے مطابق اگست 2025 سے ستمبر 2026 کے درمیان اسرائیل کے سب سے بڑے اسلحہ ساز ادارے ایلبٹ سسٹمز کے پرزوں کی 315 کھیپیں 29 ممالک کی 56 تجارتی بندرگاہوں سے گزریں، اور یہ تمام 56 بندرگاہیں 30 اکتوبر کو ہڑتال میں شریک تھیں۔ مہم کا اندازہ ہے کہ 30 اکتوبر کو 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا کارگو ایک دن کے لیے رکا رہے گا۔ مہم کے ترجمان کے مطابق شریک بحیرہ روم کی بندرگاہیں اس سمندر کی کنٹینر سرگرمی کا 63 فیصد سنبھالتی ہیں، جب کہ دنیا بھر میں شریک بندرگاہیں عالمی شپنگ کا 13.5 فیصد سنبھالتی ہیں۔

مزدوروں کی روایت

یہ عالمی یوم عمل 2025 کے اوائل میں بحیرہ روم کے ڈاک ورکرز کے اجلاسوں سے شروع ہوا تھا، جہاں نجکاری اور فلسطین میں جنگ کے خلاف عملی اقدامات پر بات ہوئی۔ مئی 2026 میں استنبول میں 35 سے زائد بندرگاہوں کی یونینز نے استنبول اعلامیہ جاری کیا اور 30 اکتوبر کو یوم عمل قرار دیا۔ یونان کے ڈاک ورکرز یونین کے رہنما مارکوس بیکرس نے الجزیرہ سے کہا کہ “اسلحہ کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور مزدوروں کے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے — یہیں ہماری طاقت ہے۔” یونان میں بیکرس کو اکتوبر 2024 میں اسرائیل کے لیے 21 ٹن گولہ بارود کے کنٹینر کی لوڈنگ روکنے والے احتجاج پر قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔

اس سے پہلے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس اور سلامتی کونسل میں پاکستان کا عالمی شپنگ تحفظ کا مطالبہ کی خبریں بھی پڑھیں۔

ذرائع: الجزیرہ، نو ہاربر فار جینوسائیڈ — 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *