شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ — 2 افراد جاں بحق، ایک پاکستانی اور ایک بھارتی زخمی؛ امریکا نے سعودی عرب سے سفارتکار واپس بلا لیے
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کے دوران سعودی فضائی دفاع کے روکے گئے ڈرون کے ملبے سے دو غیر ملکی ملازمین جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہے۔
سعودی وزارت توانائی کی تصدیق
سعودی وزارت توانائی نے بدھ 21 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں بتایا کہ روکا گیا ڈرون فیلڈ میں موجود پروسیسنگ سہولت کو نشانہ بنا رہا تھا۔ ملبہ ایک ٹھیکیدار کی گاڑی پر گرا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور دو افراد — نیپال اور فلپائن کے شہری — جاں بحق ہو گئے۔
وزارت کے مطابق شیبہ فیلڈ کی پیداواری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں — اس فیلڈ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 10 لاکھ بیرل خام تیل ہے۔
حوثی حملوں کی مسلسل مہم
یہ حملہ اس ماہ سعودی عرب کے توانائی اور ہوائی انفراسٹرکچر پر حوثی باغیوں کی جاری حملوں کی تازہ کڑی ہے۔ بلومبرگ اور اے پی کی رپورٹس کے مطابق اسی ماہ حوثیوں کے حملوں میں ریاض سمیت سعودی ہوائی اڈوں پر کم از کم 19 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اسی کشیدگی کے باعث مملکت کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس “فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو” 2027 تک ملتوی کر دی گئی تھی، اور ایک ہفتے قبل دھران میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ ہوا تھا۔
البتہ شیبہ حملے کی ذمہ داری ابھی تک حوثی باغیوں نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی۔ سعودی اتحاد نے بدھ کی صبح مشرقی خطے کی طرف داغا گیا ڈرون روکے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دمام ہوائی اڈے پر بھی حملہ — ایک جاں بحق
سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے اسی روز دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر حملے کی بھی اطلاع دی، جس میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہوائی اڈے کی املاک کو نقصان پہنچا، جس کا جائزہ جاری ہے۔
امریکا نے سفارتکاروں کی واپسی کا حکم دے دیا
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔ ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ عملے اور خاندانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
چار امریکی اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ خلیج کے دیگر ممالک میں امریکی مشنوں میں بھی اہل خانہ کی واپسی کے احکامات جاری ہوں گے۔ امریکی سفارت خانے نے ریاض میں بدھ کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے مزید حملوں کے امکان سے خبردار کیا تھا۔
سفر پر اثرات
ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ہوائی اڈہ — جسے اکتوبر میں متعدد بار نشانہ بنایا گیا اور 10 اکتوبر کو بند کیا گیا تھا — بدھ کو مقامی پروازوں کے لیے کھل گیا۔ سعودیہ اور فلائی ناس کی پروازیں جاری ہیں، تاہم لفٹ ہانزا اور ایئر فرانس سمیت بڑی ایئر لائنز نے نومبر کے وسط تک اپنی سروس معطل کر رکھی ہے۔
ذرائع: اے پی / ورلڈ آئل بذریعہ بلومبرگ (21 اکتوبر 2026)؛ اے اے پی نیوز (21 اکتوبر 2026)۔