ترکی میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، ملزم گرفتار

0

ترکی کے مغربی صوبے افیون قرہ حصار میں جمعرات کی شام فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں 8 افراد ہلاک اور ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے ملزم کو پڑوسی صوبے اسکیشہر سے گرفتار کر لیا ہے۔

افیون قرہ حصار کے گورنر کے دفتر نے بیان میں بتایا کہ صوبے میں مسلح حملوں میں بدقسمتی سے ہمارے 8 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق حملے جمعرات کی شام دیہی علاقے میں ہوئے، اور ہلاک ہونے والے افراد تین مختلف دیہات میں اپنی گاڑیوں کے اندر پائے گئے۔

تین دیہات میں حملے

حملے صوبے کے ضلع احسانیہ کے دیہات یوکاری تندر، قیئر اور آیازینی میں ہوئے۔ انادولو کے مطابق آیازینی گاؤں کے قریب تین افراد اور قیئر گاؤں کے قریب تین افراد ہلاک پائے گئے، جبکہ یوکاری تندر میں دو زخمی خواتین ملیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

ترک میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں یوکاری تندر سیکنڈری اسکول کی دو خواتین اساتذہ ہلال میٹے (31 سال) اور عائشہ ثنا دمیر (46 سال) بھی شامل ہیں۔ دیگر ہلاک شدگان میں احمد اوزل (57)، بکیر ٹوپراک (50)، نعمان ٹوپراک (56)، سیدی احمد آئی دوغمش (73)، ساتی آئی دوغمش (68) اور اسماعیل شن (61) شامل ہیں۔ دونوں اساتذہ کی ہلاکت کے بعد اسکول میں ایک روز کے لیے تعلیم معطل کر دی گئی اور گاؤں سوگ میں ڈوب گیا۔

ملزم کی گرفتاری

حکام کے مطابق ملزم کی شناخت 30 سالہ عارف صفا اوزدیمیر کے طور پر ہوئی ہے، جس نے پمپ ایکشن شاٹ گن سے فائرنگ کی۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم نے سب سے پہلے شہر کے مرکز میں ایک خاتون سیوگی پوسٹالجی کو شدید زخمی کیا، پھر دیہات میں گاڑیوں کو روک کر فائرنگ کرتا رہا۔

واقعے کے بعد ملزم سرخ رنگ کی گاڑی میں فرار ہو گیا۔ پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی اور دیہات جانے والی سڑکیں بند کر دیں۔ ترک میڈیا کے مطابق ملزم فرار کے دوران کئی گاڑیاں چھینتا رہا، اور آخر کار اسکیشہر صوبے کے ضلع سییت غازی میں گاڑی کیچڑ میں پھنسنے کے بعد پولیس سے مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔

وجہ ابھی واضح نہیں

حملوں کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ ترک میڈیا میں ایک گاؤں والے کے حوالے سے قرض کے تنازعے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ دعویٰ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ افیون قرہ حصار کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی نگرانی میں تین پراسیکیوٹر تحقیقات کر رہے ہیں۔

ترکی کے ریڈیو و ٹیلی ویژن سپریم کونسل نے تحقیقات کے دوران نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ خاندانی و سماجی خدمات کی وزارت نے بتایا ہے کہ نفسیاتی معاونت کی ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ موجود ہیں۔

ترکی میں اس سے قبل بھی بڑے حملوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ایک ہی شام تین دیہات میں اس نوعیت کی فائرنگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ترکیہ اور مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق ہماری خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3658 ۔ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کٹھوعہ انکاؤنٹر کی تفصیلات یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3808

ماخذ: ڈان، بی بی سی، حریت ڈیلی نیوز، وائن نیوز، بزنس اسٹینڈرڈ — 6 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *