NA-77، PP-203 ضمنی انتخاب: پولنگ مکمل، گنتی جاری

0

گوجرانوالہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 اور ساہیوال کے صوبائی حلقہ پی پی 203 میں ضمنی انتخاب کی پولنگ اتوار 8 نومبر کو مکمل ہو گئی۔ صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی، اور پولنگ کا وقت ختم ہونے پر ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی۔ دونوں حلقوں میں پولنگ پرامن رہی اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

پولنگ کیسے رہی؟

این اے 77 گوجرانوالہ میں 333 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 142 مردوں، 137 خواتین اور 54 مشترکہ پولنگ اسٹیشن شامل تھے۔ اس حلقے میں 7 لاکھ 76 ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ پی پی 203 چیچہ وطنی (ساہیوال) میں 2 لاکھ 58 ہزار 122 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شام 5 بجے پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

دونوں نشستیں ستمبر 2026 میں ارکان کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھیں۔ این اے 77 کی نشست پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو طویل علالت کے بعد انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ پی پی 203 کی نشست مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ کے 17 ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

کون امیدوار میدان میں ہے؟

این اے 77 میں مسلم لیگ ن نے مرحوم رکن کے بیٹے راشد بشیر ورک کو امیدوار بنایا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے اس ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ 2024 کے عام انتخابات میں محمود بشیر ورک نے ایک لاکھ 9 ہزار 704 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ راشدہ طارق 91 ہزار 825 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔

پی پی 203 میں مسلم لیگ ن نے چوہدری اسد حنیف جٹ کو امیدوار بنایا ہے۔ یہ نشست اصل میں 2024 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال نے 55 ہزار 874 ووٹ لے کر جیتی تھی، تاہم فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں نااہل قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔ نومبر 2025 کے ضمنی انتخاب میں حنیف جٹ 46 ہزار 820 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کی کارروائی

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔ الزام ہے کہ وزیر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ کیا اور راشد بشیر ورک کے حق میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ الیکشن کمیشن نے تارڑ کو آج 8 نومبر کو صبح 11 بجے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

کمیشن نے اتوار کو پولنگ کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تین سرکاری عہدیداروں کو نوٹس جاری کیے اور متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کر لی۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ہونے تک این اے 77 کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ ابھی صرف الزامات سامنے آئے ہیں، کسی عہدیدار کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا، اور نتیجہ روکنے یا جاری کرنے کا فیصلہ کمیشن کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد دونوں حلقوں کے غیر حتمی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ این اے 77 کے نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کے اس فیصلے سے مشروط ہے جو عطا اللہ تارڑ کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں کیا جائے گا۔ پی پی 203 کے نتائج میں اسد حنیف جٹ اور دیگر امیدواروں کے درمیان مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ حتمی اور سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ای سی پی نے عطا تارڑ کو نوٹس جاری کر دیا اور این اے 77، پی پی 203 ضمنی انتخاب: آج پولنگ

ماخذ: ڈان، ڈیلی پاکستان، بزنس ریکارڈر — 8 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *