کے پی پولیس: 17 ہزار خالی آسامیاں، کنڈی کا بڑا اعلان

0

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کی پولیس میں 17 ہزار خالی آسامیوں کو شفاف طریقے سے جلد پُر کیا جائے گا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر قیمت پر جیتی جائے گی۔ گورنر نے یہ باتیں ہفتہ 7 نومبر 2026 کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، جس میں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر بھی سخت تنقید کی۔

فضل الرحمن پر تنقید

گورنر کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اب ان لوگوں کو یاد کر رہے ہیں جنہیں عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت کی پالیسیوں نے صوبے کو مشکلات میں ڈالا، اور اب وہی لوگ امن و امان کی صورتحال پر تنقید کر رہے ہیں۔ گورنر کے مطابق ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت میں جیتی جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی اور پولیس کی مضبوطی صوبائی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جیسا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی خبر https://ntmnews.online/?p=4015 میں بھی بتایا گیا تھا۔

پولیس میں 17 ہزار خالی آسامیاں

گورنر کنڈی نے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس میں 10 ہزار نہیں بلکہ 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں، جنہیں جلد شفاف طریقے سے پُر کیا جائے گا۔ پولیس فورس کو مکمل تعاون اور جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جائیں گے، اور امن کے قیام کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس سے قبل 5 نومبر کو بھی گورنر نے کہا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور بنوں، مالاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنوں میں پولیس کی ضروریات کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

کرپشن کے انکشافات

گورنر نے صوبائی انتظامیہ میں کرپشن کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے۔ ان کے مطابق کئی محکموں میں کک بیکس لیے جا رہے تھے اور محکمہ خزانہ میں 12 فیصد کٹوتی کے بعد بل پاس کیے جاتے تھے۔ گورنر کنڈی نے کہا کہ اس بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا اور صوبے کے وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہوں گے۔

دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع کے لیے پیکیج

گورنر کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 160 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پیکیج کا 70 فیصد دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع پر خرچ ہوگا۔ پولیس نے وفاقی حکومت سے 12 دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں سیکیورٹی انتظامات مضبوط کرنے کے لیے 40 ارب روپے کا خصوصی پیکیج بھی مانگا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، بلٹ پروف گاڑیاں اور خصوصی تربیت شامل ہے۔ چشمہ رائٹ بینک کینال کی بحالی کے لیے حکام کو 15 سے 20 نومبر کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں بارش کے نئے سلسلے کی تفصیل https://ntmnews.online/?p=4039 میں پڑھیں۔

گورنر راج کا پس منظر

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ گورنر کنڈی نے 6 نومبر کو کہا تھا کہ یہ اقدام غیر معمولی حالات میں اٹھایا گیا، اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دوسرے صوبوں کے برابر کی جائیں گی۔ شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے صوبے میں ایک کیڈٹ کالج بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

ماخذ: Pakistan Point، The Express Tribune، Dawn — 5 تا 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *