شہباز شریف کی نواز شریف سے جاتی امرا میں ملاقات

0

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو لاہور میں جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال، ملکی معاشی چیلنجز اور حکومت کی اصلاحاتی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی اس اہم ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔

ملاقات میں کیا بات ہوئی

وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور معیشت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی۔ وزیراعظم نے نواز شریف کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ معاشی اصلاحات، درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔

ملاقات میں خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے پاکستان کی معیشت و توانائی کے شعبے پر ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ عالمی چیلنجز کے پیش نظر ملکی معیشت کو مستحکم کرنا انتہائی اہم ہے۔

پٹرول سستا، ریلیف عوام تک پہنچے

نواز شریف نے ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانا ہی عوام کو اصل ریلیف ہے اور عوام کو سہولت دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے عام شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ریاست کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔

پس منظر اور آگے کیا ہوگا

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کا سامنا ہے — نیپرا نے ہفتے کو ستمبر کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 2.36 روپے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس بارے میں ہماری خبر نیپرا کا فی یونٹ 2.37 روپے اضافہ (https://ntmnews.online/?p=4097) پڑھیں۔

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر سے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہے، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے گورنر راج کے خلاف دائر درخواستیں کاز لسٹ سے خارج کر دی تھیں (https://ntmnews.online/?p=4116)۔ کابینہ کو پیش کی گئی سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے آئندہ چھ ماہ کی سیاسی حکمت عملی اور حکومتی ترجیحات پر بھی مشاورت کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات بجٹ کی تیاری اور آئی ایم ایف کے آئندہ جائزے سے قبل پارٹی کی صف بندی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع: ٹریبیون، ڈان، اردو پوائنٹ — 8 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *