ٹاسک فورس آئرن گیٹ: امریکا ایران کی زمینی سپلائی روکے گا
امریکا نے ایران کے خلاف اپنی مہم کو سمندر سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے، جو ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپیئن کے راستے ہتھیاروں اور پابندی شدہ سامان کی نقل و حرکت روکے گی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ہفتہ 7 نومبر کو اعلان کیا کہ “ٹاسک فورس آئرن گیٹ” ایران کے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور غیر قانونی آمدنی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے گی۔
ٹاسک فورس کیا کرے گی؟
سینٹ کام کے مطابق ٹاسک فورس آئرن گیٹ تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل ایک داخلی ٹیم ہے، جو فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں قائم ہوگی۔ یہ ٹیم امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپیئن سے جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز، پابندی شدہ مواد اور غیر قانونی آمدنی کی نقل و حرکت کی نگرانی، نشاندہی اور اسے روکنے کا کام کرے گی۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ “سینٹ کام کی امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کی فیکٹریوں کی تعمیر نو اور اپنی فوج کو دوبارہ مسلح کرنے کی صلاحیت مزید محدود ہو جائے گی۔” ان کے مطابق یہ ٹاسک فورس “ایران کے خلاف سمندر میں ہماری فولادی ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید مضبوط کرے گی۔”
پاکستان بھی نقشے میں شامل
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کام کی جاری کردہ گرافک میں ایران کی ان چار پڑوسی ممالک کی سرحدیں نمایاں کی گئی ہیں، جن سے ہو کر سامان کی نقل و حرکت ہو سکتی ہے — ترکی، افغانستان، ترکمانستان اور پاکستان۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد اور تجارتی سڑکوں کے روابط ہیں۔ تاہم سینٹ کام نے واضح کیا کہ یہ ایک داخلی ٹیم ہے، نئی فوجی تعیناتی نہیں، اور اسلام آباد کے ساتھ کسی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
الجزیرہ سے گفتگو میں امریکا کے سابق نائب معاون وزیر دفاع برائے مشرق وسطیٰ مائیکل ملرائے نے کہا کہ ٹاسک فورس کا کام یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ہتھیاروں کے نظام کہاں سے آ رہے ہیں، انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے، اور ایران اپنی توانائی کیسے منتقل کر رہا ہے۔
بحری ناکہ بندی اور 25 ارب ڈالر کا دعویٰ
سینٹ کام کے مطابق ایران کی بندرگاہوں پر مہینوں سے جاری بحری ناکہ بندی نے ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل کی برآمد سے روک دیا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار سینٹ کام کا اپنا دعویٰ ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق ایران نے جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کے ہارڈ ویئر، دھماکہ خیز مواد اور بھاری ٹرک درآمد کرنے کے لیے فوجی اداروں کا ایک خفیہ نیٹ ورک بنا رکھا ہے، جو بحری ناکہ بندی اور مغربی پابندیوں سے بچ کر کام کر رہا ہے۔ ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا مقصد اسی نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔
ایران کا جواب: میزائل حد ختم
ایران نے اس دباؤ کا جواب اپنی بیلسٹک میزائل حد ختم کر کے دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اعلان کیا کہ میزائلوں کی رینج پر 2000 کلومیٹر کی خود ساختہ حد اب ختم کر دی گئی ہے۔ اس اعلان کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4078
دوسری جانب پاکستان میں ہرمز کے حملے کے بعد گیس کا بحران گہرا ہو گیا ہے، کیونکہ ایل این جی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اس بحران کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=4146
قطر اور دیگر ثالث ممالک جنگ کی واپسی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ابوظبی میں 10 اور 11 نومبر کو مذاکرات کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا قیام بذات خود کسی فوری امریکی حملے کا اشارہ نہیں ہے، جس طرح ایران کا میزائل اعلان بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔
ماخذ: الجزیرہ، ڈان، رائٹرز، ٹریبیون — 8 نومبر 2026