ایبولا سے متاثر برطانوی ڈاکٹر لندن منتقل

0

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک برطانوی ڈاکٹر کو جمعرات 5 نومبر کو خصوصی طبی پرواز کے ذریعے برطانیہ واپس لا کر لندن کے رائل فری ہسپتال میں داخل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج ہائی لیول آئسولیشن یونٹ میں جاری ہے۔ برطانوی محکمہ صحت کے مطابق مریض کی حالت مستحکم ہے اور عوام کو وائرس سے خطرہ کم ہے۔

ڈاکٹر کیسے متاثر ہوا؟

متاثرہ ڈاکٹر ایک انسانی ہمدردی کی تنظیم کی جانب سے کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ وبا کے خلاف مہم میں کام کرتے ہوئے وائرس کا شکار ہو گیا۔ ڈاکٹر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ برطانوی حکومت کے مطابق مریض کو طبی امداد سے لیس خصوصی پرواز کے ذریعے وطن واپس لایا گیا، جس کا انتظام برطانیہ اور کانگو کی حکومتوں اور بین الاقوامی صحت کے شراکت داروں نے مشترکہ طور پر کیا۔

لندن میں علاج کیسے ہو رہا ہے؟

پرواز جمعرات کو لندن کے قریب واقع آر اے ایف نارتھولٹ فوجی ہوائی اڈے پر اتری، جہاں سے مریض کو پولیس اور ایمبولینس کے قافلے کے ساتھ شمالی لندن کے علاقے ہیمپسٹڈ میں واقع رائل فری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کا ہائی لیول آئسولیشن یونٹ خاص طور پر ایبولا جیسی خطرناک متعدی بیماریوں کے علاج کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہی ہسپتال 2014 اور 2015 میں مغربی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کے دوران وطن واپس لائے گئے تین صحت کارکنوں کا کامیاب علاج بھی کر چکا ہے۔

عوام کو خطرہ کتنا ہے؟

برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) نے واضح کیا ہے کہ وسیع تر عوام کو خطرہ کم ہے۔ ایجنسی کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر رینو بندرا نے کہا کہ یو کے ایچ ایس اے اور نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس وائرس کی مزید منتقلی کو روکنے کے لیے مضبوط اور آزمودہ طریقہ کار موجود ہیں۔ مریض کی دیکھ بھال سے وابستہ تمام افراد پر انفیکشن سے بچاؤ کے سخت ضوابط لاگو کیے گئے ہیں، اور مجموعی طور پر برطانیہ کو خطرے کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

کانگو میں ایبولا کی صورتحال

یہ کیس موجودہ وبا کے دوران ایبولا سے متاثر ہونے والا پہلا برطانوی شہری ہے۔ کانگو کی وزارت صحت نے مئی 2026 میں اس وبا کا اعلان کیا تھا، جو اب ریکارڈ پر دوسری سب سے بڑی ایبولا وبا بن چکی ہے — 10,000 سے زائد کیسز اور 5,000 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یہ وبا بنڈیبوگیو قسم کے وائرس کی وجہ سے ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس ہفتے اس قسم کے خلاف دو نئی ویکسینز کے کلینکل ٹرائلز کی منظوری دی ہے۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان میں پولیو کی مہم کے دوران صحت کارکنوں پر حملوں کے حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ خبر ایک بار پھر یاد دلاتی ہے کہ وبائی امراض سے لڑنے والے کارکن خود کتنے خطرے میں ہوتے ہیں۔ ایبولا کی طرح پولیو بھی صرف مسلسل ویکسینیشن اور صحت کارکنوں کی حفاظت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کانگو میں ایبولا سے اموات 5 ہزار سے تجاوز کر گئیں — https://ntmnews.online/?p=3170 اور پاکستان میں پولیو کا نواں کیس، خیبر سے رپورٹ — https://ntmnews.online/?p=3712

ماخذ: خبر ایجنسی رائٹرز، دی گارڈین اور یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹس کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *