انتم نقوی کا زمبابوے کیلئے ٹیسٹ ڈیبیو، 9 رنز بنا کر آؤٹ
پاکستانی نژاد آل راؤنڈر انتم نقوی نے بالآخر زمبابوے کیلئے ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کر لیا۔ شارجہ میں افغانستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز انہوں نے 15 گیندوں پر 9 رنز بنائے، جبکہ زمبابوے نے دن کے اختتام پر 5 وکٹوں کے نقصان پر 326 رنز بنا لیے تھے۔ نقوی کا ڈیبیو اس لیے بھی خاص ہے کہ ان کی اہلیت کے معاملے پر دو سال سے زائد عرصے تک کاغذی کارروائی جاری رہی تھی۔
طویل انتظار کے بعد ڈیبیو
انتم نقوی بیلجیئم میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق پاکستانی خاندان سے ہے اور وہ آسٹریلیا میں بھی رہ چکے ہیں۔ وہ 2023 سے زمبابوے کی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں، جہاں انہوں نے خود کو ایک شاندار بلے باز اور کارآمد بولنگ آپشن کے طور پر منوایا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط 60.35 ہے، 24 میچوں میں انہوں نے 6 سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں بنائیں اور 62 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
2024 میں انہوں نے تاریخ رقم کی تھی جب مڈ ویسٹ رائنوز کی طرف سے ٹسکرز کے خلاف ناقابل شکست 300 رنز بنا کر زمبابوے کی ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں پہلی ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز بن گئے تھے۔ اسی کارکردگی نے انہیں زمبابوے کے سب سے زیادہ زیر بحث نوجوان کھلاڑیوں میں شامل کر دیا تھا، لیکن قومی ٹیم میں ان کی شمولیت بار بار کاغذی کارروائی کی وجہ سے رکتی رہی۔
جولائی 2024 میں انہیں بھارت کے خلاف ٹی20 سیریز کیلئے زمبابوے کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا، مگر شہریت کی دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں کھیل سکے۔ اکتوبر 2025 میں افغانستان کے خلاف ٹیسٹ کیلئے بھی انہیں دوبارہ موقع ملا، لیکن اس بار بھی کاغذات نامکمل رہے۔ جون 2026 تک زمبابوے کرکٹ بورڈ اہلیت کی تصدیق کا انتظار کر رہا تھا، اور بالآخر بدھ 4 نومبر کو بورڈ نے تصدیق کی کہ نقوی کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی کلیئرنس مل گئی ہے۔ اسی کے ساتھ انہیں افغانستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا۔
ڈیبیو اننگز اور میچ کی صورتحال
شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں جمعرات 5 نومبر کو شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں زمبابوے کے کپتان برائن بینیٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ انوسینٹ کایا اور بین کرن نے 60 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی، جس کے بعد تجربہ کار برینڈن ٹیلر نے شاندار سنچری بنا کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا۔ ٹیلر نے 168 گیندوں پر 131 رنز بنائے، جن میں 14 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کی ساتویں ٹیسٹ سنچری تھی۔
ٹیلر اور کپتان بینیٹ کے درمیان تیسری وکٹ پر 137 رنز کی شراکت بنی۔ 22 سالہ بینیٹ اس سیریز میں زمبابوے کی قیادت کر رہے ہیں، کیونکہ باقاعدہ کپتان رچرڈ نگاراوا کمر کی تکلیف کے باعث باہر ہیں۔ بینیٹ پہلے دن کے اختتام پر 71 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔
افغانستان کے اسپنرز نے دن کے آخری سیشن میں واپسی کی کوشش کی۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر ضیا الرحمان اکبر نے پہلے کریگ اروائن کو 4 رنز پر آؤٹ کیا اور پھر ڈیبیو کرنے والے انتم نقوی کو بھی 9 رنز پر وکٹ کیپر اکرام علی خیل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔ اس وقت زمبابوے کا اسکور 287 رنز پر 5 وکٹیں تھا۔ تاہم بینیٹ اور ویسلی مدھاویرے نے 39 رنز کی ناقابل شکست شراکت سے ٹیم کو سنبھالا، اور زمبابوے نے پہلا دن 326 رنز پر 5 وکٹوں کے ساتھ ختم کیا۔
اس میچ میں زمبابوے کے تجربہ کار لیگ اسپنر گریم کریمر بھی تقریباً نو سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آئے۔ 40 سالہ کریمر نے آخری ٹیسٹ دسمبر 2017 میں کھیلا تھا۔ افغانستان کی طرف سے رحمان اللہ نے بھی ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ افغانستان اور زمبابوے کے درمیان حالیہ وائٹ بال سیریز میں افغانستان نے کامیابی حاصل کی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف سلہٹ ٹیسٹ میں امیر جنگو کی سنچری کی خبر یہاں دستیاب ہے۔
آگے کیا ہوگا
میچ کے دوسرے روز جمعہ 6 نومبر کو بینیٹ اور مدھاویرے اپنی اننگز دوبارہ شروع کریں گے، اور زمبابوے کی کوشش ہوگی کہ پہلی اننگز میں بڑا مجموعہ بنا کر افغانستان پر دباؤ ڈالے۔ انتم نقوی کیلئے بھی یہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا — افغانستان کی بیٹنگ کے دوران انہیں اپنی بولنگ سے بھی ٹیم کی مدد کا موقع مل سکتا ہے، کیونکہ وہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ گیند بازی میں بھی حصہ ڈال سکتے ہیں۔ دو میچوں کی یہ سیریز زمبابوے کیلئے اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیم نئے کپتان کے ساتھ ایک نئے دور کی شروعات کر رہی ہے، جبکہ افغانستان اپنی اسپن بولنگ کے بل پر واپسی کی کوشش کرے گا۔
ماخذ: اے اسپورٹس، ای ایس پی این کرک انفو، کرک بز