راولاکوٹ کریک ڈاؤن: 3 ہلاکتوں کی اطلاعات، متضاد دعوے
راولاکوٹ میں 5 نومبر 2026 کی صبح تقریباً 6 بجے سیکیورٹی فورسز نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاجی کیمپوں پر کریک ڈاؤن کیا۔ کمیٹی کے مطابق اس کارروائی میں 3 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران مسلح افراد نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور پولیس نے بھی ہلاکتوں کے کسی اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی ہے۔
کریک ڈاؤن کیسے ہوا
کشمیر ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کارروائی راولاکوٹ کے کئی مقامات پر بیک وقت شروع ہوئی، جن میں متیال مارا بس ٹرمینل اور ڈی چوک شامل ہیں۔ مظاہرین 5 جون سے ان مقامات پر دھرنا دیے ہوئے تھے اور سیاسی و انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کمیٹی کے رکن عمر نذیر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی کیمپوں کو چاروں طرف سے گھیر کر کارروائی کی اور ڈرون حملوں کا الزام بھی لگایا گیا۔ مقامی افراد کے مطابق شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں کئی کلومیٹر دور تک سنی گئیں۔
ہلاکتوں کے متضاد اعداد و شمار
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق ڈی چوک پر ہلاک ہونے والے تین افراد کی شناخت احتشام، عاطف نور اور عادل رشید کے طور پر ہوئی ہے۔ احتشام اور عاطف نور چمبہ نار کے رہائشی تھے جبکہ عادل رشید کا تعلق منگ مور سے بتایا گیا ہے۔ کمیٹی نے 18 زخمیوں کی ابتدائی فہرست بھی جاری کی ہے۔
دوسری طرف مقامی صحافی اجمل شاہین کے حوالے سے 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں احسن طارق کا نام بھی شامل ہے۔ یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (یو کے پی این پی) نے 7 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ کچھ بھارتی ذرائع ابلاغ نے 18 ہلاکتوں کی خبر بھی دی ہے۔ ان میں سے کسی بھی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور کمیٹی نے اب تک صرف 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کا موقف
پونچھ ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق کارروائی بس ٹرمینل کے قریب عوامی سڑکوں سے غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے اور آمد و رفت بحال کرنے کے لیے کی گئی۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مسلح افراد نے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ بیان میں پولیس اہلکاروں اور مسلح افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا لیکن ہلاکتوں کے کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
پولیس نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کا تعلق سدھنوتی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکرم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے بھی ہے، جنہیں پولیس کے مطابق چند روز قبل سفر کے دوران روک کر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔ پولیس ترجمان نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔ بیان میں ڈرون حملوں یا شہری ہلاکتوں کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
پابندیاں اور آگے کیا ہوگا
کارروائی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے راولاکوٹ میں دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت عوامی اجتماعات اور نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔ مساجد سے اعلانات کر کے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور 5 یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بس ٹرمینل کے قریب موبائل فون سروس بھی متاثر ہوئی جس سے صورتحال کی تصدیق میں مشکلات پیش آئیں۔
ہلاکتوں کی خبروں کے بعد مظفرآباد میں بھی احتجاج ہوا، جہاں آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ نے سیکیورٹی آپریشن کے خلاف مظاہرہ کیا اور ہلاکتوں کی ذمہ داری کا مطالبہ کیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اب چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کے درمیان ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ کمیٹی کے کارکنوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا تھا۔
اس سے قبل ملک میں انتخابی عمل سے متعلق پیش رفت پر ہماری خبر پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3710 اور عدالتوں سے متعلق فیصلے پر یہ خبر دیکھیں: https://ntmnews.online/?p=3708
ذرائع: کشمیر ٹائمز (5 نومبر 2026)، دی ٹریبیون انڈیا / اے این آئی (5 نومبر 2026) — ہلاکتوں کے اعداد و شمار متعلقہ فریقوں کے دعووں کے طور پر درج ہیں، آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔