پیٹرولیم لیوی: حکومت جماعت اسلامی مذاکرات آخری مرحلے میں
اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے پر مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ کے مطابق دونوں فریقوں نے ورکنگ پیپر تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس پر کل مزید بات چیت ہوگی۔
منگل کو وزارت خارجہ میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ مذاکرات کا آخری دور تھا، جس میں چار بنیادی نکات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ حکومت نے زرعی شعبے اور ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔
مذاکرات میں کون شریک ہوا
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی، جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی شریک تھے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور انجینئر نصر اللہ رندھاوا مذاکرات میں موجود تھے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق یہ ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی حالیہ ملاقات کے تناظر میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ٹیلی فون پر حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کر کے مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور رہنمائی حاصل کی۔ حافظ نعیم الرحمان اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔
جماعت اسلامی کی چھ تجاویز
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کو چھ تجاویز پیش کی تھیں، جن میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، ریلیف پیکیج، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی، آٹھ سو سی سی سے زائد گاڑیوں اور زرعی شعبے کو ریلیف شامل ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے زرعی شعبے اور ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کو ریلیف دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیٹرولیم لیوی جاری رکھنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے، اور حکومت نے تیل کی ریفائنریز کو ضرورت سے زیادہ منافع کمانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنی مراعات چھوڑنے کو تیار نہیں، حالانکہ عوام کو ریلیف کی اشد ضرورت ہے۔
ورکنگ پیپر اور اگلا مرحلہ
لیاقت بلوچ کے مطابق دونوں مذاکراتی ٹیمیں لیوی کے بتدریج خاتمے اور عوامی ریلیف کے لیے ورکنگ پیپر تیار کریں گی۔ حکومت اپنا ورکنگ پیپر آج رات مکمل کرے گی، جبکہ دونوں فریقوں کی ٹیمیں کل مزید پیش رفت پر بات کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان مذاکرات کے مسودہ معاہدے کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد پارٹی اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ترکی سے واپسی پر حافظ نعیم الرحمان ملک بھر کے کارکنوں سے آن لائن خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل بتائیں گے۔
لانگ مارچ کی دھمکی برقرار
جماعت اسلامی نے واضح کر رکھا ہے کہ اگر مذاکرات سے عوام کو ریلیف نہ ملا تو پارٹی وسط نومبر میں ملتان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پارٹی کو احتجاج کا پورا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان 27 اکتوبر کو چھ رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد پیٹرولیم لیوی میں بتدریج کمی اور وزیر اعظم کی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع کرنا تھا۔ اس سے قبل آج ہی پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 76 پیسے کی کمی کا اعلان کیا گیا تھا، جو آج سے نافذ ہے۔
مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: پیٹرول 3 روپے 40 پیسے سستا، ڈیزل 7 روپے 76 پیسے کمی (https://ntmnews.online/?p=3348) اور جماعت اسلامی لانگ مارچ: وسط نومبر میں اسلام آباد (https://ntmnews.online/?p=2833)
ذرائع: اردو پوائنٹ، 24 نیوز، آج نیوز، ڈیلی پاکستان اور دیگر ذرائع کے مطابق۔