پانی روکا تو جنگ تصور ہوگا، گیلانی کا سخت انتباہ
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے مختص پانی کے حصے میں کسی بھی اسٹریٹجک مداخلت کو جنگ کا عمل تصور کیا جائے گا اور اس کا براہ راست اور سخت جواب دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں چھٹی پاکستان واٹر ویک 202۔ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بننے دیا جائے گا اور نہ ہی اسے جغرافیائی سیاسی دباؤ کا ذریعہ بننے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا.
تقریب میں کیا کہا گیا
گیلانی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر تبدیل، معطل یا منسوخ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بارے میں پاکستان کا موقف مضبوط اور اصولی ہے، اور اس کے تحت حاصل حقوق کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج ہوں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پانی کو جغرافیائی سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔ یہ تقریب اسلام آباد میں 2 سے 6 نومبر تک جاری رہے گی جس میں 200 سے زائد شرکا شریک ہیں، اور اس کا اہتمام انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ، سی جی آئی اے آر، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز اور وزارت آبی وسائل کے تعاون سے کیا گیا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کیوں اہم ہے
سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا اور یہ دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اس کے تحت مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص ہیں، جن پر ملک کی زراعت کا بڑا انحصار ہے، جبکہ مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بنیادی طور پر بھارت کے استعمال کے لیے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق بھارت نے اپریل 2025 میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک مہلک حملے کے بعد، جس کا الزام نئی دہلی نے پاکستان پر لگایا تھا، معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت معاہدے کے تحت آنے والے دریاؤں پر ذخائر، توسیع اور رخ موڑنے کے منصوبے آگے بڑھا رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
سیلاب اور خشک سالی کا دوہرا بحران
گیلانی نے کہا کہ پاکستان کو ایک ہی وقت میں دو بحرانوں کا سامنا ہے: تباہ کن سیلاب جو لاکھوں افراد کو بے گھر کرتے ہیں، اور طویل خشک سالی جو مٹی کے وسائل کو ختم کرتی ہے اور خوراک کی پیداوار کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر 2010 کے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ افراد کی تکلیف خود دیکھی اور امداد و بحالی کی کوششوں کو متحرک کیا۔ اردو پوائنٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے اور 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، جبکہ گزشتہ سال تقریباً 7 ملین افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران فی کس پانی کی دستیابی 5 ہزار مکعب میٹر سے زیادہ سے کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے۔
سینیٹ کا کردار اور آئندہ اقدامات
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کو آفات سے نمٹنے کے ردعمل والے انداز سے آگے بڑھ کر روک تھام، تیاری، موسمیاتی موافقت اور طویل مدتی لچک پر مبنی جامع نظام بنانا ہوگا۔ انہوں نے پارلیمانی حمایت کے تین شعبوں پر زور دیا: قابل نفاذ قانون سازی، مؤثر نگرانی اور مسلسل مالی وسائل۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ دریائی طاسوں سے متعلق قانون سازی، اس بات کی پارلیمانی نگرانی کہ آبی پالیسیاں کسانوں اور برادریوں تک حقیقی فائدہ پہنچا رہی ہیں یا نہیں، اور آفات کی روک تھام و پانی کے تحفظ کے لیے مخصوص بجٹ مختص کرنے کی وکالت کے ذریعے اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے صوبائی آبی قوانین کے مکمل نفاذ، زیر زمین پانی کی بہتر حکمرانی، آبی ذخائر کی منصوبہ بند بحالی اور سیلاب کے پانی کو زیر زمین ذخائر میں منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے 1991 کے واٹر اکارڈ اور 2018 کی قومی آبی پالیسی کو ملک کے اجتماعی عزم کی اہم مثالیں قرار دیا، لیکن کہا کہ اصل چیلنج ان قومی فریم ورکس پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ ان کے مطابق سینیٹ وفاقی صوبائی تعاون مضبوط بنانے، اتفاق رائے پیدا کرنے اور قومی اہمیت کے مسائل پر بات چیت کے لیے ایک اہم آئینی فورم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبی سلامتی کا زرعی معیشت، غذائی سلامتی، ماحولیاتی پائیداری اور مجموعی معاشی ترقی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے پانی کے تحفظ، مؤثر آبپاشی، جدید آبی ٹیکنالوجی، تحقیق اور موسمیاتی لچک والی زراعت میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت سے متعلق ہماری خبر https://ntmnews.online/?p=3247 اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق خبر https://ntmnews.online/?p=3392
ماخذ: ڈان، عرب نیوز، نیشن اور اردو پوائنٹ (اے پی پی)، 2 تا 3 نومبر 2026۔