پی ٹی آئی میں اختلافات کی تردید، عمران خان سے اتحاد کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی نے پارٹی کے اندر اختلافات اور گروپ بندی کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ پیر 2 نومبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کی پوری قیادت اور کارکنان بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ متحد ہیں، اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ مقاصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ پارٹی کے قائم کردہ نظم و ضبط اور پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی رکن کے خلاف یکساں اصولوں کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں کن امور پر غور ہوا
سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، عمران خان اور ان کے اہل خانہ سے متعلق معاملات، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، خیبر پختونخوا میں مبینہ سیاسی انتقام، دہشت گردی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے کہا کہ دہشت گردی قومی لعنت ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اجلاس میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا اور سیاسی کارکنوں، عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کی قیادت کی رہائی کا مطالبہ
کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر اراکین اسمبلی کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ منتخب عوامی نمائندوں کو حراست میں رکھنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ واضح رہے کہ 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ کا کردار غیر فعال ہو گیا تھا، اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق آفریدی اور اسپیکر کو گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے، ان کے اہل خانہ کو ان کی صحت سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے۔ بشریٰ بی بی کے لیے بھی مناسب طبی سہولتوں اور اہل خانہ سے ملاقات کی سہولت کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور ان سے متعلق سلوک کی شدید مذمت کی گئی۔
نظم و ضبط اور آئندہ حکمت عملی
سیاسی کمیٹی نے پارٹی نظم و ضبط کو موجودہ مشکل سیاسی حالات میں انتہائی اہم قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ پارٹی پلیٹ فارم سے باہر غیر ذمہ دارانہ بیانات اور تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی نے کہا کہ پارٹی کے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل یقینی بنا کر داخلی اتحاد، یکجہتی اور تنظیمی استحکام برقرار رکھا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پارٹی کی آئندہ حکمت عملی اور لائحہ عمل جلد از جلد حتمی شکل دے کر کارکنوں اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور اس عمل میں اراکین پارلیمنٹ، پارلیمانی گروپ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو مکمل طور پر مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے مہنگائی پر بھی تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ ایل پی جی، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف دے کر عوام پر مالی بوجھ کم کیا جائے۔
مزید پڑھیں: عمران، بشریٰ سے وکیل کی ملاقات، 7 ماہ بعد رسائی اور پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی میں نیا دھماکہ، گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک۔
ماخذ: دی نیشن، ڈان، پاکستان ٹوڈے، 3 نومبر 2026۔