بھارت تجارت معطلی سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر نقصان
بھارت تجارت معطلی سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر نقصان
پاک انڈیا بزنس کونسل (پی آئی بی سی) کے چیئرمین نور محمد قصوری نے پیر 2 نومبر 2026 کو کہا ہے کہ 2019 سے بھارت کے ساتھ تجارت کی معطلی سے پاکستان کو تقریباً 40 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے دونوں ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ کاروبار، سرمایہ کاری، سیاحت اور علاقائی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ واضح رہے کہ 40 ارب ڈالر کا یہ اعداد پی آئی بی سی کے چیئرمین کا تخمینہ ہے، اس کی کوئی آزاد یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
نقصان کیسے ہوا؟
قصوری کے مطابق تجارت بند ہونے کے بعد پاکستانی کاروباروں کو ضروری خام مال اور دیگر اشیا دور دراز کی منڈیوں سے منگوانی پڑیں، جس سے نقل و حمل اور مال برداری کے اخراجات اور ترسیل کا وقت دونوں بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارما سیوٹیکل صنعت بھارت سے دستیاب خام مال پر انحصار کرتی تھی، اور بھارت سے درآمدات بحال ہونے پر اس شعبے کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبے پر بھی بوجھ پڑا۔ قصوری کے مطابق ملکی کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو برازیل، مصر، چین اور امریکا سے کپاس درآمد کرنا پڑی، جس سے تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافی خرچ آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی، کھاد، سیمنٹ، پٹرولیم مصنوعات، لوہا و فولاد، سبزیاں اور بھاری مشینری بھی دیگر ممالک سے منگوائی جا رہی ہیں، حالانکہ بھارت میں ان کی خاطر خواہ پیداواری صلاحیت موجود ہے۔
تجارت کب اور کیوں رکی؟
تجارتی تعلقات کا ٹوٹنا 2019 کے واقعات سے جڑا ہے۔ فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کا سب سے زیادہ پسندیدہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ واپس لے لیا اور پاکستانی اشیا پر کسٹم ڈیوٹی 200 فیصد تک بڑھا دی۔ پاکستان نے 7 اگست 2019 کو باضابطہ طور پر دوطرفہ تجارت معطل کر دی، جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی۔ بعد میں مئی 2025 میں بھارت نے قومی سلامتی اور عوامی پالیسی کا حوالہ دے کر پاکستان سے براہ راست اور بالواسطہ درآمدات پر بھی پابندی لگا دی۔ بھارتی سرکاری اعداد کے مطابق 2024-25 میں دونوں ممالک کی مجموعی دوطرفہ تجارت صرف 55 کروڑ 82 لاکھ ڈالر رہ گئی، جو 2023-24 میں 1.19 ارب ڈالر تھی۔
پہلے بھی یہی تخمینہ؟
یہ پہلی بار نہیں کہ پی آئی بی سی نے اتنا بڑا نقصان بتایا ہو۔ مارچ 2025 میں قصوری نے گزشتہ چھ برسوں میں تقریباً 30 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا تھا، اور کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارت کی صلاحیت 20 سے 25 ارب ڈالر تک ہے۔ تازہ 40 ارب ڈالر کا اعداد اسی سلسلے میں نیا تخمینہ ہے، جو چھ برس سے زائد عرصے کی منجمد تجارتی تعلقات کا مجموعی اثر ظاہر کرتا ہے۔ قصوری نے اپنی اپیل میں بھارت کی جانب سے سری لنکا کے معاشی بحران کے دوران دی گئی مالی امداد کا بھی حوالہ دیا، اور کہا کہ علاقائی تعاون کی اسی روح سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تجارتی دروازے دوبارہ کھل سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
دونوں حکومتوں میں سے کسی نے بھی پیر کو تجارت بحال کرنے کے کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔ کاروباری حلقوں کا مطالبہ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن سیاسی اور سلامتی کے معاملات کی وجہ سے تجارتی تعلقات کی بحالی کا کوئی ٹائم ٹیبل سامنے نہیں آیا۔ اس دوران پاک چین گرین چینل کے ذریعے خنجراب سے زرعی تجارت تیز کرنے جیسے متبادل تجارتی راستے بھی خبروں میں رہے ہیں، جبکہ چینی وفد کی پاکستان آمد اور سی پیک 2.0 پر بات چیت نے علاقائی معاشی تعاون کی ایک اور سمت دکھائی ہے۔
ذرائع: پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے حوالے سے اکنامک ٹائمز، نیوز 18، منی کنٹرول، ڈی ٹی نیکسٹ — 2 نومبر 2026۔