منیر سے چینی وزیر لیو ہائی شنگ کی ملاقات

0

منیر سے چینی وزیر لیو ہائی شنگ کی ملاقات

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر عہدیدار لیو ہائی شنگ نے پیر 2 نومبر 2026 کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا، اور دونوں فریقوں نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں کیا بات ہوئی؟

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق لیو ہائی شنگ چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر ہیں، جو پارٹی کے بیرونی تعلقات کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ فیلڈ مارشل منیر نے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی اور آزمودہ تعلقات کو اجاگر کیا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنا، ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ضروری ہے۔ لیو ہائی شنگ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

اسحاق ڈار سے بھی ملاقات

لیو ہائی شنگ پاکستان کے دورے پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر آئے ہیں۔ جی ایچ کیو ملاقات سے الگ، انہوں نے اسلام آباد میں اسحاق ڈار سے بھی دوطرفہ ملاقات کی، جس میں انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، اور خطے میں امریکا ایران کشیدگی سمیت سلامتی کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقوں کا بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال کے دوران قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا عزم بھی ظاہر ہوا۔

پاکستان چین تعلقات کیوں اہم ہیں؟

پاکستان اور چین کی شراکت داری دفاع، معیشت اور سفارتکاری سمیت کئی شعبوں پر محیط ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں تیزی آئی ہے — اس سے پہلے چینی وفد کی پاکستان آمد اور سی پیک 2.0 پر بات چیت بھی خبروں میں رہی، جبکہ پاک چین گرین چینل کے ذریعے خنجراب سے زرعی تجارت تیز کرنے پر بھی پیش رفت ہوئی تھی۔ مبصرین کے مطابق چینی پارٹی عہدیدار کا جی ایچ کیو دورہ اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر رابطہ مضبوط رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور خطے کے ممالک اپنی سلامتی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کسی نئے معاہدے یا مشترکہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطحی روابط جاری رکھنے اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید وفود کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات متوقع ہیں۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اردو پوائنٹ (اے پی پی)، دی نیشن — 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *