چینی وفد آج پاکستان آئے گا، سی پیک 2.0 پر بات
چین کا ایک اعلیٰ سطح وفد تین روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچے گا، جس میں سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے پر پاکستانی حکام سے مشاورت کی جائے گی۔ 24 نیوز کے مطابق، یہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران چین کے کسی اعلیٰ سطح وفد کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہوگا، اور اس دورے کی قیادت چینی کمیونسٹ پارٹی کے عالمی رابطہ و ترقی کے وزیر لیو کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی اور چینی حکام اس دورے کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے (سی پیک 2.0) کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حصہ بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں میں تیزی آئی ہے۔
وفد کی قیادت کون کر رہا ہے
رپورٹ کے مطابق، وفد کی سربراہی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر برائے عالمی رابطہ و ترقی کر رہے ہیں، جو چین کی حکمران جماعت کے بین الاقوامی رابطوں کے شعبے کے ذمہ دار ہیں۔ اس عہدے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی محکمے کا کردار دوست ممالک کی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کلیدی سمجھا جاتا ہے۔
وفد کے تین روزہ قیام کے دوران اسلام آباد میں مختلف ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں سی پیک کے جاری منصوبوں اور آئندہ تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال ہوگا۔ تاہم، دورے کا تفصیلی شیڈول اور ملاقاتوں کی حتمی فہرست تاحال سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی ہے۔
سی پیک 2.0 کیا ہے
سی پیک 2.0 کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس میں توجہ بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں سے آگے بڑھ کر صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون پر مرکوز کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں توانائی اور سڑکوں کے منصوبوں پر زور تھا، جبکہ دوسرے مرحلے کا مقصد پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔
پاکستانی حکام نے حالیہ مہینوں میں متعدد بار کہا ہے کہ سی پیک 2.0 کے تحت چینی سرمایہ کاری کو صنعتی شعبے کی جانب موڑنا ترجیح ہے۔ اس تناظر میں چینی وفد کا دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
تین ہفتوں میں دوسرا دورہ
اس سے قبل 24 اکتوبر کو چین کا ایک وفد پاکستان آیا تھا، جس کی قیادت چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کر رہی تھیں۔ اس وفد میں چینی وزارت خارجہ اور اطلاعات کے شعبے کے حکام شامل تھے، اور اس دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے، جن میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور سے متعلق معاہدہ بھی شامل تھا۔
لگاتار دوسرے اعلیٰ سطح دورے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ملک اپنے تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر رابطوں کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اس تسلسل کو پاکستان چین شراکت داری کی مضبوطی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سلامتی اور معاشی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔
خطے کی صورتحال کا پس منظر
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنے مغربی ہمسائے افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کے چیلنج سے بھی نمٹ رہا ہے۔ اس پس منظر میں چین جیسے قریبی دوست ملک کے ساتھ رابطے کو اسلام آباد میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ بیجنگ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور اس نے ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی سفارت کاری کے محاذ پر حالیہ دنوں میں کئی اہم پیش رفتیں ہوئی ہیں، جن میں جی 20 اجلاس کا بغیر اتفاق رائے اختتام شامل ہے: https://ntmnews.online/?p=3073 ۔ اور پاکستان افغانستان تعلقات میں دہشت گردی کی رکاوٹ کی صورتحال بھی توجہ کا مرکز ہے: https://ntmnews.online/?p=3071 ۔ ان پیش رفتوں کے درمیان چین کے وفد کا دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آئندہ تین دنوں میں اس دورے سے متعلق سرکاری اعلانات اور معاہدوں پر نظر رہے گی، خاص طور پر سی پیک 2.0 کے تحت نئے منصوبوں یا سرمایہ کاری کے اعلانات پر۔ اگر دورے کے دوران کوئی بڑا معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کا اعلان پاکستانی اور چینی حکام کی مشترکہ ملاقاتوں کے بعد متوقع ہے۔
ذرائع: 24 نیوز، یکم نومبر 2026۔