پاکستان افغانستان تعلقات میں دہشت گردی بڑی رکاوٹ
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان حکومت کا سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے سے انکار دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بیان افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اس ویڈیو بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثالث ممالک اور کابل کی کوششیں پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
وزارت اطلاعات کا ہفتے کا بیان
عرب نیوز کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتے کو کہا کہ “طالبان حکومت کا دہشت گردی سے نمٹنے سے مسلسل انکار معمول کے تعلقات کی بنیادی رکاوٹ ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ “الزام تراشی، کھوکھلی یقین دہانیاں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانا نہ تو بحران حل کرے گا اور نہ ہی کابل کو اس کی ذمہ داریوں سے بری کرے گا۔” وزارت اطلاعات نے خبردار کیا کہ پاکستان کے لیے دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے اور اس کے شہریوں کی سلامتی “غیر مذاکراتی” ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی قومی سلامتی کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی پیدا ہوں۔”
مجاہد کا موقف اور کابل کا انکار
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک افغان میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے “ضروری آمادگی” کی کمی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ثالثی کی کوششیں اب تک کوئی نتیجہ نہیں دے سکی ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروپ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف عسکریت پسند حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔ دونوں فریقوں کے یہ متضاد دعوے کشیدگی کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔
نومبر 2022 سے بڑھتے حملے
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو نومبر 2022 سے اپنے شمال مغربی اور جنوب مغربی صوبوں میں عسکریت پسند حملوں میں اضافے کا سامنا ہے، اور یہ دونوں صوبے افغانستان سے متصل ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کو پاکستان کے خلاف کھلے عام حملے کرنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال سے زیادہ عرصے میں افغانستان سے شروع ہونے والے عسکریت پسند حملوں میں اس کے تقریباً 4,700 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ کابل اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان نے جواب میں افغانستان کے شہروں بشمول کابل میں سرحد پار کارروائیاں کی ہیں، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا نشانہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں تھیں۔
سرحدی جھڑپیں اور مذاکرات کی ناکامی
ان کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات کی کئی کوششیں ہوئیں، لیکن ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہوا، اور قطر و ترکیہ کی ثالثی سے بھی کوئی قابل عمل حل سامنے نہیں آیا۔ وزارت اطلاعات کے بیان میں آخری جملہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا: “کابل کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری مکمل طور پر افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اپنے عوام کی حفاظت کے لیے پاکستان کے عزم کو کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔” یہ بیان اس سے قبل سامنے آنے والے اس موقف کی توسیع ہے جس میں پاکستان نے دہشت گردی کو اپنی سلامتی کے لیے سرخ لکیر قرار دیا تھا۔
آگے کیا ہوگا
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا کوئی نیا دور طے نہیں ہوا ہے، اور بیانات کا تبادلہ ہی کشیدگی کی موجودہ صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ کابل اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکے، جبکہ کابل کا موقف ہے کہ وہ پہلے ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور پاکستان کو مذاکرات کے لیے آمادگی دکھانی چاہیے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: طالبان سے مذاکرات ناکام، پاکستان نے ریڈ لائن کھینچ دی https://ntmnews.online/?p=3040 اور اقوام متحدہ میں پاکستان کا طالبان سے متعلق بیان https://ntmnews.online/?p=2875۔
ماخذ: عرب نیوز، یکم نومبر 2026۔