پوپ لیو چہارم نے امریکی ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کر دی
پوپ لیو چہارم امریکی انتخاب میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔ ویٹیکن نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو تصدیق کی کہ شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات کے لیے میل ان بیلٹ جمع کرایا ہے۔ مورخین کے مطابق یہ ممکنہ طور پر پہلا موقع ہے کہ کسی پوپ نے کسی سیکولر جمہوری انتخاب میں ووٹ دیا ہو۔
ویٹیکن کی تصدیق
ہولی سی پریس آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ پوپ نے بحیثیت امریکی شہری اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے اور جب بھی وہ اس کے اہل ہوئے، انہوں نے ایسا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مقدس باپ جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت کے حق اور فرض پر یقین رکھتے ہیں۔ ویٹیکن نے یہ نہیں بتایا کہ پوپ نے کن امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔
برطانوی مورخ مائیکل والش نے سی این این کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس سے قبل کسی پوپ نے جمہوری انتخاب میں ووٹ نہیں دیا۔ پوپ لیو چہارم مئی 2025 میں دنیا بھر کے کارڈینلز کے انتخاب سے 1.4 ارب کیتھولک کے رہنما بنے تھے، اور وہ پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں۔
شکاگو سے بیلٹ کی کہانی
شکاگو سن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پوپ نے 3 اکتوبر کو ول کاؤنٹی کلرک کے دفتر سے میل ان بیلٹ کی درخواست کی تھی۔ وہ اپنے پیدائشی نام رابرٹ فرانسس پریووسٹ کے تحت الینوائے کے شہر نیو لینوکس میں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جہاں ان کے بھائی جان رہتے ہیں۔ یہ درخواست پوپ کی پھیپھڑے کے کینسر زدہ ٹیومر نکالنے کی سرجری سے صرف 10 دن قبل کی گئی تھی، جس کے بعد وہ 17 اکتوبر کو اسپتال سے فارغ ہوئے تھے۔
ریکارڈ کے مطابق پریووسٹ نے 2008 اور 2010 میں ڈیموکریٹک پرائمری اور 2012، 2014 اور 2016 میں ریپبلکن پرائمری میں ووٹ دیا، جبکہ 2012، 2014، 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں بھی ووٹ ڈالا۔ انہوں نے اس سال مارچ میں الینوائے پرائمری میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ بیلٹ ویٹیکن سے ڈاک کے ذریعے واپس بھیجا گیا یا ان کے بھائی کے ذریعے پہنچایا گیا۔
بیلٹ میں کیا کچھ شامل ہے؟
پوپ کے بیلٹ میں الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر کے تیسری مدت کے انتخاب، طویل عرصے سے سینیٹر ڈک ڈربن کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست، ایوان نمائندگان اور ریاستی و کاؤنٹی عہدوں کے انتخابات شامل ہیں۔ پوپ نے نومبر 2025 میں ویٹیکن میں پرٹزکر سے ملاقات بھی کی تھی، جس میں امیگریشن نافذ کرنے کے اقدامات پر بات ہوئی تھی۔
امریکی شہریوں کے لیے بیرون ملک سے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنا قانونی ہے، اور پوپ امریکی شہریت کے ساتھ ساتھ پیرو کی شہریت بھی رکھتے ہیں، جہاں وہ 20 سال سے زیادہ عرصے تک مشنری پادری اور بشپ رہے۔ ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا کہ پیرو میں قیام کے دوران بھی جب وہ اہل ہوئے، انہوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
مڈٹرم انتخابات کی اہمیت
امریکہ میں 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا فیصلہ ہوگا، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے باعث ریپبلکنز کے لیے اپنی اکثریت برقرار رکھنا مشکل بتایا جا رہا ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں قبل از وقت ووٹنگ کے ریکارڈ کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2888 ۔ پوپ نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کی جنگ اور امیگریشن کریک ڈاؤن پر ٹرمپ انتظامیہ سے اختلاف بھی ظاہر کیا ہے، جس پر صدر نے ان پر تنقید بھی کی تھی۔
پوپ لیو چہارم کے اس اقدام کو دنیا بھر میں تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی بھی پوپ کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس نے کسی سیاسی انتخاب میں ووٹ دیا ہو۔ امن اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے پوپ کی حالیہ اپیل کی ایک مثال اولیشکی شہریوں کی واپسی کے موقع پر بھی سامنے آئی تھی: https://ntmnews.online/?p=2969
ماخذ: سی این این، رائٹرز، اکنامک ٹائمز، کیتھولک ریویو — 31 اکتوبر 2026