اولیشکی کے شہری 1711 دن بعد یوکرین واپس پہنچ گئے
روس کے زیر قبضہ یوکرینی قصبے اولیشکی سے نکالے گئے شہری ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کی دوپہر کو بیلاروس کے راستے یوکرین واپس پہنچ گئے ہیں۔ سی این این کے مطابق سینکڑوں افراد، اپنے پالتو جانوروں سمیت، یوکرین کے زیر کنٹرول علاقے میں داخل ہوئے، جہاں ان کے اہل خانہ سے برسوں بعد جذباتی ملاقاتیں ہوئیں۔
1711 دن بعد ملاقات
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈمیٹرو نامی یوکرینی فوجی نے اپنی اہلیہ لاریسا سے 1,711 دن بعد ملاقات کی۔ ڈمیٹرو یوکرین اور بیلاروس کی سرحد کے قریب بس کا انتظار کر رہے تھے، اور جب ان کی اہلیہ کو لے کر بس پہنچی تو دونوں نے یوکرینی پرچموں میں لپٹ کر ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ ڈمیٹرو کی اہلیہ اس لیے زیادہ خطرے میں تھیں کیونکہ ان کے شوہر یوکرینی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر شہریوں کی واپسی کا اعلان کیا اور اس ثالثی میں مدد پر امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
انخلا کا راستہ کیسا تھا؟
شہریوں کو جمعہ 30 اکتوبر کو بسوں کے ذریعے اولیشکی سے نکالا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ جزیرہ نما کریمیا سے ہوتے ہوئے روس کے قصبے اناپا پہنچے، جہاں سے تین طیاروں کے ذریعے بیلاروس کے گومیل ایئرپورٹ لے جایا گیا، اور پھر بسوں کے ذریعے سرحدی گزرگاہ سے یوکرین میں داخل ہوئے۔
روئٹرز کے مطابق یہ دونوں متحارب فریقوں کی مشترکہ امدادی کارروائی ہے، جو چار سال آٹھ ماہ کی جنگ میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ انخلا سے پہلے دو روزہ بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ شہریوں کو بھوک اور تھکن کی حالت میں نکالا گیا تھا اور وہ طویل عرصے سے محصور علاقے میں پھنسے ہوئے تھے۔
ثالثی میں کس کا کردار تھا؟
یہ انخلا اس مقامی جنگ بندی کے تحت ہوا جس میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ پوپ لیو نے بھی اس عمل کے لیے اپیل کی تھی۔ روئٹرز کی وضاحتی رپورٹ کے مطابق ماسکو اور کیف دونوں اس کارروائی کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ امن کی کوششوں میں سنجیدہ ہیں۔
تاہم روئٹرز نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دونوں فریق جنگ کے خاتمے کی شرائط پر ابھی بہت دور ہیں اور فوری طور پر جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یوکرین کے وزیراعظم کے مطابق انخلا کرنے والوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہے، کیونکہ امدادی کارروائی جاری ہے اور اعداد و شمار تبدیل ہو رہے ہیں۔
اولیشکی انخلا کے پہلے مرحلے کے بارے میں ہماری بیلاروس پہنچنے کی خبر (https://ntmnews.online/?p=2935) اور انخلا شروع ہونے کی خبر (https://ntmnews.online/?p=2835) بھی پڑھیں۔
ماخذ: سی این این، روئٹرز اور یوکرینی صدر کا ٹیلی گرام بیان، 31 اکتوبر 2026۔