انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز کا تجربہ شروع

0

انسٹاگرام نے مختصر ویڈیوز کی دنیا سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے 90 منٹ تک کی لمبی ویڈیوز کا تجربہ شروع کر دیا ہے۔ کمپنی کے نئے فیچر “فیچرز” کے تحت منتخب امریکی تخلیق کار اب افقی (ہوریزانٹل) ویڈیوز اپ لوڈ کر سکیں گے، جن میں پوڈکاسٹ، انٹرویوز اور تفریحی مواد شامل ہوگا۔ یہ تجربہ 26 اکتوبر سے شروع ہوا ہے اور اس کا مقصد یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز سے مقابلہ کرنا ہے۔

اس سے پہلے انسٹاگرام کی ریلز عام طور پر تین منٹ یا اس سے کم کی ہوتی تھیں۔ اب صارف کسی پوڈکاسٹ کا مختصر کلپ دیکھ کر اسی ایپ کے اندر مکمل قسط دیکھ سکے گا، بغیر کسی دوسری ایپ پر جانے کے۔

“فیچرز” کیسے کام کرے گا؟

دی ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق، “فیچرز” کا طریقہ کار سادہ ہے: تخلیق کار اپنی مختصر ریل کو مکمل لمبی ویڈیو سے لنک کر سکے گا۔ انسٹاگرام کی نائب صدر برائے پروڈکٹ ٹیسا لیونز نے بتایا: “اب آپ اپنے پسندیدہ پوڈکاسٹ کا کلپ دیکھیں گے تو اس پر کلک کر کے مکمل ویڈیو دیکھ سکیں گے، کیونکہ تخلیق کار اپنی ریلز کو مکمل فیچر سے لنک کر سکیں گے۔”

لمبی ویڈیوز ایکسپلور پیج اور ایپ کے دیگر حصوں میں بھی تجویز کی جائیں گی، تاکہ صارفین نیا مواد آسانی سے دریافت کر سکیں۔ انسٹاگرام نے برازیل میں اس فیچر کا تجربہ پہلے ہی کر لیا ہے، اور اب امریکا میں دسیوں ہزار تخلیق کاروں تک اسے پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ مکمل عوامی لانچ اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع میں متوقع ہے۔

متعلقہ خبر: https://ntmnews.online/?p=2129

متعلقہ خبر: https://ntmnews.online/?p=1324

کون سے تخلیق کار شامل ہیں؟

ابتدائی تجربے میں شامل تخلیق کاروں میں پوڈکاسٹ میزبان اور اسکمز کی شریک بانی ایما گریڈ، بیوٹی تخلیق کار مونیٹ میک مائیکل، نیویارک کے شہریوں سے محبت اور تعلقات پر انٹرویو کرنے والے پریسٹن راکوسکی، اور فٹبال مواد بنانے والے ڈونلڈ ڈی لا ہائے شامل ہیں۔

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری نے کہا ہے کہ مختصر اور لمبی ویڈیوز کا رشتہ “ہم آہنگ” (symbiotic) ہے، اور دونوں فارمیٹس موبائل ایپ اور ٹی وی ایپ پر ساتھ چلیں گے۔ کمپنی نے گزشتہ سال سام سنگ، فائر ٹی وی اور گوگل ٹی وی کے لیے انسٹاگرام فار ٹی وی لانچ کیا تھا، جو اب امریکا میں ایپل ٹی وی تک پھیل رہا ہے۔

یوٹیوب سے مقابلہ

یہ اقدام واضح طور پر یوٹیوب کو چیلنج ہے، جو لمبی ویڈیوز اور پوڈکاسٹ کی دنیا میں سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ یوٹیوب کے اہل تخلیق کاروں کو اشتہاری آمدنی کا 55 فیصد ملتا ہے، اور پلیٹ فارم برانڈ ڈیلز میں بھی مدد کرتا ہے۔ انسٹاگرام نے کہا ہے کہ تخلیق کاروں کو اپنا مواد صرف انسٹاگرام تک محدود نہیں رکھنا پڑے گا، اور وہ اپنے موجودہ اشتہاری معاہدے جاری رکھ سکیں گے۔ کمپنی تخلیق کاروں کو نئی اشتہاری شراکتیں تلاش کرنے میں بھی مدد دے گی۔

ٹیکنالوجی کی خبروں کے مطابق، انسٹاگرام اس کے ساتھ “کلپس ایز ریلز” نامی تجربہ بھی کر رہا ہے، جس میں لمبی ویڈیو کے حصے خودکار طور پر ریلز بن کر مکمل ویڈیو سے لنک ہو جائیں گے۔ صارف لمبی ویڈیو کو محفوظ بھی کر سکے گا اور ٹی وی ایپ پر بھیج سکے گا۔ لائیو ویڈیو کی دریافت بہتر بنانے اور قسط وار ریلز کے لیے پروفائل ہب پر بھی کام جاری ہے۔

ماضی کا سبق: آئی جی ٹی وی

یہ انسٹاگرام کی لمبی ویڈیو میں پہلی کوشش نہیں ہے۔ کمپنی کا سابقہ لمبی ویڈیو پروڈکٹ آئی جی ٹی وی ناکام ہو کر بند ہو چکا ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ لمبی ویڈیو کو ریلز کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، یعنی صارف کو نیا مواد دریافت کرنے کے لیے ایپ چھوڑنی نہیں پڑے گی۔ موسری نے تسلیم کیا ہے کہ اسے درست کرنے میں وقت لگے گا، لیکن کمپنی اس پر طویل مدتی طور پر پرعزم ہے۔

پاکستانی صارفین کے لیے یہ فیچر ابھی دستیاب نہیں ہے، کیونکہ تجربہ صرف منتخب امریکی تخلیق کاروں تک محدود ہے۔ آنے والے مہینوں میں مزید ممالک شامل کیے جائیں گے، جس کے بعد پاکستانی تخلیق کار بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے، خاص طور پر وہ جو پوڈکاسٹ اور لمبے انٹرویوز بناتے ہیں۔

ذرائع: دی ہالی ووڈ رپورٹر، ٹیک کرنچ، ڈیکسرٹو، 26-27 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *