نائجیریا حملہ: گاؤں پر مسلح افراد کا حملہ، 40 ہلاک

0

نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست تارابا کے گاؤں بناری پر جمعہ 23 اکتوبر 2026 کی سہ پہر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہفتے 24 اکتوبر کو جاری بیان میں یہ تعداد بتائی، جبکہ پولیس نے ابتدائی طور پر صرف 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور الجزیرہ نے بھی اس حملے کی رپورٹ دی ہے۔

حملہ کیسے ہوا؟

پولیس کے ہفتے کو جاری کردہ بیان کے مطابق مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے بناری گاؤں پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور تقریباً 50 موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، ہر موٹر سائیکل پر دو افراد بیٹھے تھے، اور انہوں نے جمعہ کی نماز کے فوراً بعد گاؤں میں فائرنگ شروع کر دی۔

گاؤں کے رہائشی سعیدو نوحو نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں کے جانے کے بعد انہوں نے 20 سے زیادہ لاشیں گنیں، اور کچھ افراد تاحال لاپتہ تھے۔ ایک اور رہائشی عیسیٰ کو موسیٰ نے بھی کم از کم 20 افراد کی ہلاکت کی بات کی۔ کمیونٹی رہنما مالم ابوبکر سیف اللہی کے مطابق حملہ آوروں نے دکانوں سے نقدی، خوراک اور دیگر سامان لوٹا، اور بھاگتے ہوئے لوگوں کی چھوڑی ہوئی موٹر سائیکلیں بھی لے گئے۔

ہلاکتوں کے اعداد میں فرق کیوں؟

ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف ذرائع کے اعداد میں فرق سامنے آیا ہے، اور اس خبر میں ہر اعداد کو اس کے ذریعے کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے جمعہ کی شام تک 10 لاشیں ملنے کی تصدیق کی تھی۔ مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو 20 سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہفتے کو کہا کہ پولیس کی ابتدائی تصدیق کے بعد مزید لاشیں ملیں، جس سے تعداد کم از کم 40 ہو گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نائجیریا نے اپنے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ “زندگی کی حرمت کے لیے مکمل بے حسی” کو ظاہر کرتا ہے۔ تنظیم نے نائجیریا کے حکام پر تنقید کی کہ وہ ملک کے شمال میں دیہی برادریوں کو بار بار ہونے والے مظالم کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں۔

شمالی نائجیریا میں ڈاکوؤں کا مسئلہ

رائٹرز کے مطابق شمالی نائجیریا میں حالیہ عرصے میں بھاری ہتھیاروں سے لیس مجرمانہ گروہوں، جنہیں مقامی طور پر ڈاکو کہا جاتا ہے، کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ گروہ دیہات پر چھاپے مارتے ہیں، تاوان کے لیے رہائشیوں کو اغوا کرتے ہیں اور مویشی چوری کرتے ہیں۔ بناری گاؤں کریم لامیدو مقامی حکومت کے علاقے میں واقع ہے، جو تارابا ریاست کا حصہ ہے۔

حملے کے بعد علاقے میں خوف کی فضا ہے، اور کئی خاندانوں نے اپنے پیاروں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔ حکام نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا گرفتاری کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

نائجیریا سے متعلق اس سے قبل ایبولا کیس کی رپورٹ https://ntmnews.online/?p=1581 میں دی گئی تھی، جبکہ دنیا بھر میں حالیہ پرتشدد واقعات کی کوریج https://ntmnews.online/?p=1770 میں موجود ہے۔

ماخذ: رائٹرز، الجزیرہ، اے ایف پی، ایمنسٹی انٹرنیشنل نائجیریا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *