ملتان یتیم لڑکے وسیم عباس قتل کیس — مرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، ریمانڈ سے فرار تھا
ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کے قتل کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بہاولپور کے قریب پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم ملتان کے ڈی ایچ اے تھانے کی حراست سے فرار ہو کر چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر تھا۔
پولیس کے مطابق مقابلہ کیسے ہوا
سی سی ڈی کے ڈسٹرکٹ آفیسر عرفان اکبر کے مطابق پولیس ٹیم نے بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی، جس پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
عرفان اکبر کے مطابق توقیر نذیر اپنے ہی مبینہ ساتھی کی فائرنگ سے گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا سوار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ملزم کی تلاش کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
حراست سے فرار پر سنگین سوالات
پولیس کے مطابق توقیر نذیر قتل کے مقدمے میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملتان کے ڈی ایچ اے تھانے کی حراست میں تھا اور وہاں سے فرار ہو گیا تھا۔ پولیس نے ابھی تک یہ وضاحت نہیں کی کہ ملزم ریمانڈ کے دوران حراست سے کیسے فرار ہوا، وہ بہاولپور کیسے پہنچا اور اس کا فرار کب ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ توقیر نذیر کا ایک اور مبینہ ساتھی امجد پہلے سے روپوش ہے۔ ملزم کو عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء کی جانب سے مبینہ تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
وسیم عباس کیس کا پس منظر
15 سالہ وسیم عباس ایک غیر سرکاری تنظیم کی زیرِ نگرانی چلنے والے یتیم خانے میں رہتا تھا اور تقریباً ایک ہفتہ قبل بجلی کا کام سیکھنے کے لیے توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق لڑکا مبینہ بدسلوکی کے باعث کام چھوڑنا چاہتا تھا اور کام کی جگہ سے بھاگ گیا تھا۔
پولیس کا الزام ہے کہ توقیر نے کار میں اس کا تعاقب کیا اور ملتان کی رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں اسے کچل دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکا بھاگتا اور پھر گاڑی کی زد میں آتا ہوا نظر آیا۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق ملزمان نے لڑکے کا تقریباً ایک کلومیٹر تک تعاقب کیا تھا۔
ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں لڑکے کے خلاف چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ وسیم عباس کا تعلق مظفرگڑھ کے علاقے دولت پور سے تھا اور اسے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
(ذرائع: دی نیوز، جیو نیوز — تمام تفصیلات پولیس اور سرکاری حکام کے بیانات کے مطابق ہیں)