یمن بازار حملہ: 30 ہلاک، الزامات کا تبادلہ

0

یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں ایک مصروف بازار پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ حوثیوں اور یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزام لگا دیا ہے، اور کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

بازار پر حملہ

حوثیوں کے زیر انتظام صحت کی وزارت کے ترجمان انیس الاصبحی کے مطابق، جمعے کو الوازیہ ضلع کے الحضارہ بازار پر کئی حملے کیے گئے۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ 30 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے لاشیں تلاش کر رہی ہیں۔ بعض ابتدائی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 اور زخمیوں کی تعداد 30 سے 40 بتائی گئی تھی، تاہم اعداد و شمار میں ابھی تک یکسانیت نہیں ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے ایف۔15 طیارے نے خمیس مشیط کے کنگ خالد ایئر بیس سے اڑان بھر کر بازار پر تین حملے کیے۔ حوثیوں سے منسلک میڈیا کے مطابق بازار اس وقت خریداروں اور تاجروں سے بھرا ہوا تھا۔

الزامات کا تبادلہ

حوثیوں نے حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، جبکہ یمن کی حکومت اور اس کی افواج نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے بازار پر بیلسٹک میزائل داغا۔ مقامی حکام نے یہ بھی کہا کہ جمعے کو الوازیہ میں کوئی فوجی فضائی کارروائی نہیں ہوئی۔
سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے الزام پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ خبر رساں ادارے اے پی نے کہا کہ وہ کسی بھی فریق کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

حوثیوں کا جوابی اعلان

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے انفراسٹرکچر اور فوجی ٹھکانوں کے خلاف بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز سے چھ جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں تعز اور بنی حشیش میں شہریوں پر حملوں کا جواب تھیں۔
ان دعویٰ شدہ جوابی حملوں یا ان سے ہونے والے نقصان کی بھی کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایک ہفتے میں دوسرا بازار حملہ

یہ حملہ اسی صوبے میں چار روز قبل المکحف بازار پر ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ تعز صوبہ زیادہ تر حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت کا محاصرہ جاری ہے، جہاں سعودی حمایت یافتہ حکومت اور اس کی افواج موجود ہیں۔
یمن میں لڑائی ستمبر میں حوثیوں کے بڑے حملے کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی حمایت یافتہ افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ حملہ اب تک کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی عروج پر ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سخت کر رکھی ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔

مزید تفصیل: مدینہ کے بعد نجران پر حوثی میزائل حملہ — https://ntmnews.online/?p=3898
امریکا نے خلیج عمان میں جہاز ناکارہ کر دیا — https://ntmnews.online/?p=4130

ذرائع: این ڈی ٹی وی، اے پی، بزنس اسٹینڈرڈ، 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *