پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مینز نے چارج سنبھال لیا
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایڈرین ہیملٹن مینز نے پیر 2 نومبر 2026 کو باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ پی آئی اے کے بورڈ نے ان کی تقرری کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور لنکڈ ان پر کیا، جس میں کہا گیا کہ ہیملٹن مینز کی تقرری قومی ایئرلائن کی جاری تبدیلی کے عمل میں ایک اہم مرحلہ ہے۔
کون ہیں ایڈرین ہیملٹن مینز
ایڈرین ہیملٹن مینز عالمی ہوابازی کے شعبے میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں اور اب تک تین ایئرلائنز کے سی ای او رہ چکے ہیں۔ پی آئی اے سے پہلے وہ عمان کی ایئرلائن سلام ایئر کے سربراہ تھے، جہاں انہوں نے جولائی 2024 سے اکتوبر 2026 تک خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل وہ قازقستان کی فلائی آریستان کے سی ای او رہے (اپریل 2020 سے جولائی 2024) اور 2012 سے 2016 تک فلائی افریقہ ڈاٹ کام کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
پی آئی اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیملٹن مینز کو ایئرلائنز کی تبدیلی اور بحالی کا عالمی ماہر سمجھا جاتا ہے اور ان کے پاس قیادت و حکمت عملی کا وسیع تجربہ ہے۔ بورڈ کو توقع ہے کہ ان کی سربراہی میں قومی ایئرلائن کی آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی، تجارتی مسابقت مضبوط ہوگی اور طویل مدتی مالی استحکام حاصل ہوگا۔
سبکدوش سی ای او اور نجکاری کا پس منظر
ہیملٹن مینز نے ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) عامر حیات کی جگہ لی ہے، جنہوں نے تقریباً ساڑھے چار سال تک پی آئی اے کی سربراہی کی۔ پی آئی اے کے بورڈ اور نئی انتظامیہ نے سبکدوش سی ای او کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
نئے سی ای او کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی آئی اے نجی شعبے کے انتظام کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نے 29 جون 2026 کو نجکاری کے عمل کے بعد ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول سنبھالا تھا، جس کے بعد سے مالی کارکردگی، تجارتی فیصلوں اور آپریشنل تنظیم نو پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
نئے سی ای او کے سامنے چیلنجز
پی آئی اے کی بحالی کے لیے نئے سی ای او کو کئی چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں مالی خسارے پر قابو، بیڑے کی جدیدکاری، بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور مسافروں کے اعتماد کی بحالی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سلام ایئر اور فلائی آریستان جیسی کم لاگت ایئرلائنز کو کامیابی سے چلانے کا تجربہ ہیملٹن مینز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پی آئی اے کو بھی لاگت میں کمی اور آمدنی میں اضافے کی سخت ضرورت ہے۔
قومی ایئرلائن سے متعلق خبروں میں کراچی میں پی آئی اے انجینئر کے قتل کی خبر بھی زیر بحث رہی، جبکہ پی آئی اے کی نئی وردیوں کا معاملہ بھی خبروں میں آیا تھا۔ اب شائقین اور مسافروں کی نظریں نئے سی ای او کے پہلے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔
ماخذ: ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون، بزنس ریکارڈر اور پرافٹ کی 2 اور 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔