کراچی میں پی آئی اے انجینئر قتل، فائرنگ
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے انجینئر امتیاز احمد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ اتوار یکم نومبر کو بلاک 13 میں پیش آیا اور مقتول کو گولی پسلی کے قریب لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
واقعہ کیسے پیش آیا
پولیس رپورٹس کے مطابق 54 سالہ امتیاز احمد ولد شاہ دین گھر سے روٹی خریدنے کے لیے نکلے تھے کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ حملہ آوروں نے 4 سے 5 گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک گولی امتیاز احمد کو لگی جبکہ 2 سے 3 گولیاں قریب کھڑی گاڑی کو بھی لگیں۔ جائے وقوعہ سے 9 ایم ایم پستول کے 4 خول برآمد ہوئے ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقتول کو سڑک عبور کرتے اور پھر ایک کھڑی گاڑی کے قریب گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے بعد ایک موٹر سائیکل سوار کو تیزی سے علاقے سے فرار ہوتے دیکھا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اس موٹر سائیکل سوار کے ملوث ہونے کے امکان کی جانچ کر رہے ہیں۔ مقتول کی لاش پہلے گلستان جوہر کے ایک نجی اسپتال لے جائی گئی اور بعد ازاں جناح اسپتال منتقل کر دی گئی جہاں قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔
مقتول کون تھے
امتیاز احمد پی آئی اے میں انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے اور 4 بچوں کے والد تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان کی اہلیہ اور بیٹیاں جرمنی میں مقیم ہیں۔ وہ گلستان جوہر کے علاقے رمشا ایونیو کے رہائشی تھے۔ واقعہ شاہراہ فیصل پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔
وجہ تاحال واضح نہیں
پولیس کے مطابق قتل کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے اور تفتیش جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقتول کا موبائل فون، بٹوہ اور دیگر سامان ان کے پاس ہی موجود تھا، جس سے بظاہر یہ واقعہ ڈکیتی کا نہیں لگتا۔ ایک رپورٹ میں خاندانی تنازع کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم پولیس کے مطابق یہ پہلو بھی تاحال تفتیش کا حصہ ہے اور اسے قتل کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کراچی میں دیگر فائرنگ واقعات
اسی روز کراچی میں فائرنگ کے دو دیگر واقعات میں بھی 2 افراد زخمی ہوئے۔ کورنگی کے علاقے جمہ گوٹھ میں ایک آئس فیکٹری میں ڈکیتی کے دوران فرار ہوتے ہوئے مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 35 سالہ غلام نبی شدید زخمی ہوا، جبکہ نارتھ ناظم آباد کے بلاک جے میں تقی سینٹر کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ عاطف زخمی ہوا جسے پولیس نے خاندانی تنازع سے جوڑا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں واقعات کی الگ الگ تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کرے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں جعلی نوکریوں کے جھانسے میں خواتین سے فراڈ اور لاہور میں سی ٹی ڈی کارروائی۔
ماخذ: منٹ مرر، 24 نیوز، دنیا نیوز اور آج نیوز کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس۔