پٹرول: ریفائنریز پر فی لیٹر 49 روپے کا بوجھ
حکومت کے پٹرول کی قیمتوں کے نئے فارمولے کے تحت ملک کی ریفائنریز کو فی لیٹر تقریباً 49 روپے پٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع کرانا ہوں گے، جبکہ صارفین کو فی لیٹر 14.71 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کی رات یہ نظرثانی شدہ طریقہ کار منظور کیا تھا، جس کے بعد پٹرولیم ڈویژن نے 30 اکتوبر کو ہی اس حوالے سے خط جاری کیا۔ یہ طریقہ کار ابتدائی طور پر 30 دن کے لیے نافذ رہے گا۔
نیا فارمولہ کیا ہے
نئے طریقہ کار کے تحت ریفائنری کو ملنے والی ایکس ریفائنری قیمت کا حساب اس طرح لگایا جائے گا کہ پریمیم، اتفاقی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو 7 مارچ 2026 کی سطح پر طے کر دیا جائے گا۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کے اصل درآمدی اخراجات کی بنیاد پر طے شدہ درآمدی قیمت اور اس نظرثانی شدہ ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق ریفائنریز کو پٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع کرانا ہوگا۔ اوگرا کے خط کے مطابق یہ رقم فی لیٹر 49.02 روپے بنتی ہے، جو ملک بھر کی کھپت پر حساب لگانے سے فی لیٹر 14.71 روپے کے پٹرولیم لیوی میں حصے کے برابر ہے۔
حکومت نے پمپ پر پٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر برقرار رکھی ہے، حالانکہ درآمدی اخراجات بڑھ گئے تھے۔ درآمدی پریمیم 19.88 ڈالر سے بڑھ کر 25.52 ڈالر فی بیرل ہو گیا تھا، جبکہ کسٹم ڈیوٹی 20.56 روپے سے بڑھ کر 26.15 روپے فی لیٹر ہو گئی تھی۔ ان اخراجات کو صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے پمپ پر پٹرولیم لیوی 80 روپے سے کم کر کے 65.29 روپے فی لیٹر کر دی اور فرق ریفائنریز پر ڈال دیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی تفصیل ہماری گزشتہ خبر میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3231
ریفائنریز کا موقف
اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جنگ سے پہلے کے پریمیم اور اتفاقی اخراجات کو پٹرول کی قیمتوں میں شامل کرنے سے ریفائنریز کو فی لیٹر تقریباً 35 روپے کا نقصان ہوگا۔ اس کے علاوہ کسٹم ڈیوٹی کی وصولی سے فی لیٹر 14 روپے پٹرولیم لیوی کم کرنے کی طرف موڑنے سے مجموعی منفی اثر فی لیٹر 49 روپے تک پہنچ جائے گا۔
ریفائنری حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان سے مشاورت کے بغیر اور اچانک کیا گیا، جس سے ان کے اربوں ڈالر کے اپ گریڈیشن منصوبے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی کی رقم مخصوص کھاتوں میں جمع ہونی تھی تاکہ اپ گریڈیشن منصوبوں کی جزوی مالی معاونت ہو سکے۔ چار ریفائنریز نے 24 ستمبر 2026 کو اپنے اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جبکہ پانچویں ریفائنری پارکو کے جلد اس پروگرام میں شامل ہونے کی توقع تھی۔ ان منصوبوں میں مجموعی طور پر 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع تھی۔
مالی نقصان کا اندازہ
بروکریج فرم انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز کے اندازے کے مطابق یہ طریقہ کار ریفائنریز کے موٹر اسپرٹ کے مجموعی مارجن کو فی بیرل تقریباً 4.8 ڈالر کے مثبت سے منفی 23 ڈالر تک لے جا سکتا ہے۔ چار درج شدہ ریفائنریز پر مجموعی طور پر ماہانہ تقریباً 12.4 ارب روپے کا قبل از ٹیکس اثر پڑنے کا اندازہ ہے۔ اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، جن پر ماہانہ فی حصص بالترتیب 24.2 اور 23.1 روپے کا اثر پڑنے کا تخمینہ ہے۔ پاکستان ریفائنری اور سینرجیکو پر تقریباً 2.7، 2.7 ارب روپے کا اثر بتایا گیا ہے۔
ریفائنری حکام نے یہ بھی یاد دلایا ہے کہ وہ ڈیزل پر اپنا مارجن پہلے ہی دو بار محدود کرنے پر راضی ہو چکے ہیں، پہلے 41.89 ڈالر اور پھر 38 ڈالر پر۔ ان کے بقول پٹرول کا نیا فارمولہ ایک اور سنگین نقصان ہے۔ دوسری طرف حکومت کا موقف یہ ہے کہ ایران امریکا جنگ کے دوران درآمدی پریمیم بڑھنے سے مقامی ریفائنریز کو بغیر اضافی لاگت کے زیادہ قیمت مل رہی تھی، اس لیے جنگی پریمیم کا اضافی حصہ واپس لے کر صارفین کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔
صارفین کے لیے کیا مطلب ہے
عام صارف کے لیے فوری فائدہ یہ ہے کہ پمپ پر پٹرول کی قیمت نہیں بڑھی اور فی لیٹر 14.71 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ تاہم صنعت کا خدشہ ہے کہ اگر ریفائنریز کو مسلسل نقصان ہوا تو اپ گریڈیشن منصوبے رک سکتے ہیں، جس سے طویل مدت میں ملک کی مقامی پیداواری صلاحیت اور ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ طریقہ کار ہر دو ہفتے بعد درآمدی پریمیم، کسٹم ڈیوٹی کے فرق اور مقامی فراہمی کے حصے کی بنیاد پر دوبارہ طے ہوگا، اس لیے اگلی قیمتوں کی نوٹیفکیشن اور ریفائنریز کے حکومت سے مذاکرات کا نتیجہ اہم ہوگا۔ توانائی کے شعبے کی صورتحال پر ہماری ایک اور خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے: https://ntmnews.online/?p=2937
ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون، بزنس ریکارڈر، دی نیشن، میٹس گلوبل، یکم تا 2 نومبر 2026۔