اسرائیل: نتائج برقرار، نیتن یاہو کا چوری کا دعویٰ

0

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ ملک کے عام انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے، چاہے بیرونی مداخلت کے شبے ثابت بھی ہو جائیں۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ نے اتوار کو ایک ویڈیو بیان میں یہ موقف اختیار کیا، جس میں ان کے ساتھ داخلی سلامتی ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شبے ثابت بھی ہو جائیں تو اس سے انتخابی عمل کی مجموعی سالمیت یا نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔

لیکوڈ کا چوری کا الزام اور قطر کی تردید

وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے نتائج پر سوال اٹھایا ہے۔ لیکوڈ کا دعویٰ ہے کہ عرب جماعتوں نے، جنہوں نے 27 اکتوبر کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی، ووٹ چرایا ہے اور قطر نے ان کی مالی مدد کی۔ لیکوڈ نے اس دعوے کے حق میں عوامی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں، اور قطر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط معلومات کی مہم قرار دیا ہے۔

اپوزیشن کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے اتوار کو نیتن یاہو پر نتائج کو بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا الزام لگایا۔ آئزن کوٹ نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے، عوام کی مرضی کو مسترد کرنے اور ایک پوری برادری کو بدنام کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ آئزن کوٹ اس سے قبل عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کر چکے ہیں، لیکن انتخابی تعطل نے صورتحال بدل دی ہے۔ اس پس منظر کی تفصیل ہماری گزشتہ خبر میں موجود ہے: https://ntmnews.online/?p=3147

ووٹوں کی گنتی اور سیاسی تعطل

حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک نے 48 نشستیں جیتی ہیں۔ کسی بھی بلاک کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں نہیں ہیں۔ اسرائیل کی تین عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں جوائنٹ لسٹ کی 11 اور رعیم پارٹی کی 8 نشستیں شامل ہیں۔ اگر اپوزیشن عرب جماعتوں کے ساتھ مل جائے تو اس کے پاس 67 نشستوں کی آرام دہ اکثریت بن سکتی ہے، تاہم اسرائیل میں بہت سے لوگوں کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سیاسی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

انتخابات میں ٹرن آؤٹ 77.9 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ بتایا گیا ہے۔ رعیم اور جوائنٹ لسٹ کو مجموعی طور پر تقریباً 840,000 ووٹ ملے، جو 2022 کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ سرکاری نتائج بدھ کو صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جانے ہیں، جس کے بعد وہ حکومت بنانے کے لیے امیدوار کو نامزد کریں گے۔ نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے، جن میں 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔

گرفتاریوں کا معاملہ

اتوار کو اسرائیلی پولیس نے انتخابات سے قبل گرفتار کیے گئے تین سیاسی کارکنوں میں سے دو کو رہا کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نقد رقم سے بھرے لفافے تھے، جن سے مبینہ طور پر ووٹروں کو رشوت دی جانی تھی۔ ایک کارکن کو غیر واضح شرائط پر رہا کیا گیا، جبکہ دوسرے کو نظر بند رہنے کا حکم دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ مشتبہ افراد رعیم پارٹی سے منسلک تھے، جس نے 8 نشستیں جیتی ہیں۔ رعیم کے رہنما منصور عباس نے ان گرفتاریوں کو غیر جمہوری قرار دیا اور کہا کہ یہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔

آگے کیا ہوگا

اب سوال یہ ہے کہ آیا آئزن کوٹ عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے حکومت بنا سکیں گے یا اسرائیل ایک بار پھر سیاسی تعطل کا شکار رہے گا۔ ایک طرف الیکشن کمیشن نے نتائج کی سالمیت پر واضح موقف دے دیا ہے، دوسری طرف لیکوڈ نے تحقیقات مکمل ہونے تک نتائج پر سیاہ بادل چھائے رہنے کا موقف اختیار کیا ہے۔ کسی بھی جماعت کے پاس نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت ہے۔ اس لیے سرکاری تصدیق اور صدر کی نامزدگی کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کون بنائے گا۔ اس سے قبل اسرائیل کی انتخابی سیاست پر ہماری خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے: https://ntmnews.online/?p=2939

ماخذ: الجزیرہ، ترکیہ ٹوڈے، نیوز 18، 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *