پنجاب: قیدیوں کی سزا میں کمی کا فیصلہ

0

پنجاب کابینہ نے تعلیم حاصل کرنے والے قیدیوں کی سزا میں کمی کی منظوری دے دی ہے۔ ہفتے کو کابینہ نے پاکستان پرزن رولز 1978 کے رول 214 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت پڑھنا لکھنا سیکھنے والے قیدیوں کی سزا کم کی جائے گی۔ یہ تجویز محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

ترمیم کے تحت وہ قیدی جو منظور شدہ خواندگی پروگرام مکمل کر کے پڑھنے، لکھنے اور بنیادی ریاضی میں مہارت کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں گے، انہیں 30 دن کی خصوصی معافی ملے گی۔ یہ سرٹیفکیٹ محکمہ خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم کے منظور شدہ پروگرام کے تحت جاری کیا جائے گا، اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے بعد متعلقہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ 30 دن کی معافی دے گا۔

خواندگی پروگرام کیسے چل رہا ہے

وزیر اعلیٰ پنجاب کے قیدی خواندگی پروگرام کے تحت صوبے کی جیلوں میں بالغ تعلیم کا سلسلہ مئی 2026 سے جاری ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعداد کے مطابق اب تک 19,578 قیدیوں نے اس پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کی ہے، جن میں سے 11,317 قیدی خواندگی کا امتحان پاس کر چکے ہیں، جبکہ 4,088 قیدی رہا ہو چکے ہیں۔

اس وقت صوبے کی 43 جیلوں میں قائم 182 خواندگی مراکز میں 4,173 قیدی زیر تعلیم ہیں، جن میں 3,986 مرد، 187 خواتین اور 105 کم عمر قیدی شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد جیلوں کو بحالی کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ قیدی رہائی کے بعد معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔

سزا میں کمی کا مقصد کیا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو تعلیم اور ہنر سکھانے سے دوبارہ جرم کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے خواندگی کو سزا میں کمی سے جوڑا ہے — جو قیدی پڑھنا لکھنا سیکھے گا، اسے اس کا فائدہ سزا میں کمی کی صورت میں ملے گا۔

یہ فیصلہ پنجاب میں جیل اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کے تحت قیدیوں کی تعلیم، تربیت اور سماجی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں تعلیمی خبروں کے لیے ہماری یہ رپورٹ دیکھیں: https://ntmnews.online/?p=1647 — اور پنجاب سے متعلق تازہ پیش رفت یہاں: https://ntmnews.online/?p=1675

ذرائع: 24 نیوز ایچ ڈی، بزنس ریکارڈر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *