ڈی جی اینٹی کرپشن لاہور ہائیکورٹ میں تیسری بار طلب
24نیوز ایچ ڈی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کو تیسری بار عدالت میں طلب کر لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ پیر کو توہین عدالت کی درخواست کی سماعت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے دو سابق افسران — سابق سرکل آفیسر ذوالفقار بازید اور سابق ریجنل ڈائریکٹر خالد یامین ستی — کو بھی طلب کیا اور تمام افسران کو جوابات داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کیس کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق یہ توہین عدالت کی درخواست سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے 2023 میں دائر کی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ عدالت کے اسٹے آرڈر کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل ظفر چٹھہ اس سے قبل دو بار عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل بھی اسی کیس میں سہیل ظفر چٹھہ کی عدم حاضری پر عدالت نے تحریری وضاحت طلب کی تھی — مارچ 2025 میں جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے ان کی غیر حاضری پر وضاحت مانگی تھی جبکہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا تھا کہ چٹھہ بیماری کی وجہ سے پیش نہ ہو سکے۔ اس موقع پر عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے تھے کہ لاکھوں روپے مالیت کی جائیداد کس طرح سیل کی جا سکتی ہے جب کہ مقدمہ موٹر سائیکل کی وصولی کا ہو۔
اینٹی کرپشن محکمے میں احتساب کی مہم
ڈی جی اینٹی کرپشن کی عدالت میں یہ پیشی ایسے وقت ہو رہی ہے جب صوبے میں کرپشن کے خلاف مہم جاری ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سہیل ظفر چٹھہ نے چند ہفتے قبل اپنے ہی محکمے کے 21 افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی تھی — مبینہ کرپشن پر ان کی معطلی، بلیک لسٹنگ اور آبائی محکموں کو واپسی کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایات پر محکمے کے اندر احتساب کی مہم کا حصہ بتائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس خبر میں عدالت کے حکم اور درخواست گزار کے الزامات کی تمام تفصیلات 24نیوز ایچ ڈی کی رپورٹ پر مبنی ہیں اور مستقل احکامات جاری ہونے سے پہلے مزید سماعت باقی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
عدالت سے متعلق ہماری دیگر رپورٹس بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کے وارنٹ گرفتاری پر توسیع دی اور اسد قیصر کی عبوری ضمانت منظور۔
ماخذ: 24نیوز ایچ ڈی (24 اکتوبر 2026)، پس منظر: اردو پوائنٹ، دی نیوز۔