ٹرمپ کا دعویٰ — مسک نے یوکرین کی اسٹار لنک رسائی بحال کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک نے یوکرین کی اسٹار لنک انٹرنیٹ رسائی بحال کر دی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح کرنے سے انکار کیا کہ آیا انہوں نے خود مسک سے فون پر بات کی تھی، جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ فوجی معیار کی اسٹار شیلڈ سروس ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔
ٹرمپ نے کیا کہا
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسک نے یوکرین کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے خود مسک کو فون کر کے پابندیاں ہٹانے کا کہا تھا، تو انہوں نے تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا: “باٹم لائن، اس نے اسے واپس لگا دیا” (Bottom line, he put it back)۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اسپیس ایکس کے سربراہ مسک کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ یوکرین کی اسٹار شیلڈ سیٹلائٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک تک مکمل رسائی بحال کریں۔ رپورٹ کے مطابق یہ فون کال اس وقت کی گئی جب یوکرینی حکام نے بتایا کہ انہیں فوجی ڈرونز چلانے میں نئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
پابندیوں کا پس منظر
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 21 اکتوبر کو وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ مسک نے یوکرین کے لیے ضروری فوجی اسٹار لنک نیٹ ورک کی رفتار جان بوجھ کر کم کرنے کا حکم دیا تھا، جس سے کیف میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے قبل ہم نے ایلون مسک کے اسٹار شیلڈ سلو ڈاؤن کے حکم کی مکمل تفصیلات شائع کی تھیں۔
مسک نے بارہا اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے اسٹار لنک رسائی محدود کی۔ ان کے اس انکار کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے اس سلو ڈاؤن کا ذمہ دار مسک اور ان کی کمپنیوں کو قرار دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کا موقف
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس بات سے انکار کیا کہ امریکا نے یوکرین کے لیے فوجی معیار کی اسٹار شیلڈ سروس میں کوئی کمی یا پابندی کا حکم دیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہم نے کچھ بھی واپس نہیں لیا، ہماری طرف سے کچھ نہیں بدلا، ہم نے کوئی ہدایات نہیں دیں۔” ان کے مطابق آپریشنل تبدیلیاں سیٹلائٹ فراہم کنندہ کے معاہدے کی شرائط کے تحت ہوں گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واشنگٹن کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹار لنک ایک کمرشل پروڈکٹ ہے جو وائٹ ہاؤس نہیں چلاتا۔
یوکرین کی اب بھی شکایات اور سینیٹ کی تحقیقات
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ اسٹار شیلڈ کی کنیکٹیویٹی ابھی تک مکمل بحال نہیں ہوئی۔ یوکرین سیٹلائٹ لنکس پر انحصار کرتا ہے جو فوجی یونٹوں کے درمیان رابطے، ڈرون آپریشنز اور روسی حملوں کے دوران وارننگ کے لیے ضروری ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں اس وقت لگائی گئیں جب واشنگٹن کیف پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے بند کرے — ٹرمپ ان حملوں کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات چند ہفتے دور ہیں، اور انتظامیہ نے روس پر کچھ پابندیاں بھی نرم کی ہیں، جس پر یوکرین اور یورپی اتحادیوں نے تنقید کی ہے۔
امریکی سینیٹرز نے بھی اس معاملے پر جوابات کا مطالبہ کیا ہے: ٹرمپ انتظامیہ کو 30 اکتوبر تک، انسپکٹر جنرل کو 1 نومبر تک اور اسپیس ایکس کو 2 نومبر تک تحریری جواب دینے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد اسٹار لنک کے متبادل کی مانگ بڑھ گئی ہے، حالانکہ فی الحال اس پیمانے کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی پر مزید پڑھیں: کیف پر روس کے میزائل حملے اور امریکا اور اسرائیل کی ایران پر نئے حملوں کی تیاری۔
ذرائع: روئٹرز، بی بی سی نیوز، وال اسٹریٹ جرنل، نیویارک ٹائمز (بذریعہ انڈین اکنامک آبزرور)، اے پی — خبر 23 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ دعوؤں کو متعلقہ فریقین سے منسوب کیا گیا ہے کیونکہ بحالی کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے۔