مکہ دفاعی معاہدے کا نیا مرحلہ — ترکیہ سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا مینڈیٹ پارلیمنٹ سے منظور کرائے گا

0

ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت کا مینڈیٹ اپنی پارلیمنٹ سے منظور کرائے گا۔ رائٹرز کے مطابق حکمران اے کے پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بدھ کے روز بتایا کہ یہ مینڈیٹ اس وقت پارلیمنٹ بھیجا جائے گا جب معاہدے کی توثیق کا بل منظور ہو جائے گا۔

توثیق کی کارروائی جاری

منگل کو تین پارلیمانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ تینوں ممالک نے اگست میں “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تمام پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے کا متن 16 آرٹیکلز پر مشتمل ہے۔

پارلیمنٹ اسپیکر نعمان کرطولمس کی واپسی پر معاہدے کو پارلیمنٹ کے خارجہ امور کمیشن کو بھیجا جائے گا؛ ایک ذریعے کے مطابق کمیشن جمعے کو اس پر بحث کر سکتا ہے۔

ترکیہ کا کردار کیا ہوگا؟

ایک ترک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکیہ کا کردار فوجی سازوسامان، انٹیلیجنس شیئرنگ اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کا امکان ہے؛ ان کے مطابق ابھی تک اتحاد کے تحت کوئی تعیناتی عمل میں نہیں آئی۔ وزیر خارجہ حاکان فدان کا کہنا ہے کہ معاہدہ “جارحانہ” نوعیت کا نہیں اور ترکیہ کسی دوسرے ملک میں حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔

10 سالہ کم از کم مدت

ڈان کی رپورٹ کے مطابق متن میں طے ہے کہ معاہدہ ریاض میں سیکریٹریٹ کے پاس توثیقی دستاویزات جمع ہونے پر نافذ ہوگا اور غیر معینہ مدت تک قائم رہے گا — تاہم پہلے 10 سال میں کوئی رکن اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے معاملے میں سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی توثیق کافی ہے (آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے)۔ رواں ماہ کے شروع میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی قوتوں اور صلاحیتوں کی “تیز تر تعیناتی” پر اتفاق کیا تھا۔

پس منظر — حوثی حملے

سعودی عرب اس وقت یمن کے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے؛ سعودی حکام نے حوثیوں کے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترکیہ نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض کی فوجی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی آمادگی ظاہر کی ہے اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی کے لیے سعودی قیادت میں اتحاد میں شمولیت پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ذرائع: رائٹرز (20 اور 21 اکتوبر 2026)، ڈان، الجزیرہ، ڈیفنس ترکیہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *