امریکی مڈٹرم: ڈیموکریٹس نے کانگریس جیت لی
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے 100 نشستوں والی سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل کر لیں جبکہ دو مزید نشستوں پر بھی برتری حاصل ہے، اور ایوان نمائندگان میں بھی 218 نشستوں کا ہدف عبور کر لیا۔ یہ باراک اوباما کی دوسری مدت کے بعد پہلا موقع ہے کہ موجودہ صدر کی پارٹی کے پاس کانگریس کا کوئی بھی ایوان نہیں رہا۔
ٹیکساس اور کنساس میں تاریخی کامیابیاں
ڈیموکریٹس نے کئی ایسی نشستیں جیتیں جو دہائیوں سے ریپبلکنز کے پاس تھیں۔ ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ کین پیکسٹن کو 11 فیصد سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی، جو 32 سال میں ٹیکساس میں کسی ڈیموکریٹ کی پہلی ریاستی سطح کی جیت ہے۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے کامیابی حاصل کی، جہاں ڈیموکریٹس نے 1932 کے بعد سے سینیٹ کی نشست نہیں جیتی تھی۔ آئیووا میں جوش ٹیورک، جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز، شمالی کیرولائنا میں رائے کوپر، میئن میں ٹرائے جیکسن اور اوہائیو میں شیرڈ براؤن نے بھی اہم نشستیں جیتیں۔ مشی گن سے عبدال السید امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے۔
ٹرمپ کے لیے کیا مطلب ہے؟
کئی ڈیموکریٹس نے اس نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی شکست قرار دیا ہے، اور ٹرمپ نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کے مخالفین نے بہتر مہم چلائی۔ ووٹروں میں مہنگائی، ٹیرف اور ایران جنگ پر ناراضگی انتخابی مہم کے مرکزی موضوعات رہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ اب اپنے آخری دو سال میں قانون سازی کے لحاظ سے کمزور صدر بن گئے ہیں، اور 2028 کے صدارتی انتخابات کی طرف توجہ بڑھے گی۔
ڈیموکریٹس اب کیا کر سکتے ہیں؟
سینیٹ پر قبضے سے ڈیموکریٹس صدر کی نامزدگیوں کو روک سکتے ہیں، بشمول سفیر، کابینہ کے ارکان اور وفاقی ججوں کی تقرریاں، اور سینیٹ کمیٹیوں کے ذریعے تحقیقات اور سمن جاری کر سکتے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے پاس مواخذے کا اختیار ہے، اور اگر ایوان مواخذہ کرے تو سینیٹ مقدمہ چلاتی ہے۔ ٹرمپ کی پہلی مدت میں دو بار مواخذہ ہوا تھا لیکن سینیٹ نے دونوں بار بری کر دیا تھا۔
رکاوٹیں بھی موجود ہیں
ڈیموکریٹس کی راہ میں بڑی رکاوٹ صدر کا ویٹو ہے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ ہر بل کو ویٹو کریں گے، اور ویٹو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کے لیے کچھ ریپبلکنز کی حمایت ضروری ہوگی۔ نئی ڈیموکریٹک اکثریت 3 جنوری کو اقتدار سنبھالے گی، اس لیے اگلے دو ماہ ایران جنگ جیسے معاملات میں اہم رہیں گے۔ ڈیموکریٹس نے مہنگائی کم کرنے، صحت کی سہولتوں کی سبسڈی بحال کرنے اور ٹیرف چیلنج کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: عبدال السید: امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب | ٹرمپ نے ووٹر فراڈ کی اطلاع پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کر دیا
ماخذ: الجزیرہ، 4 نومبر 2026؛ یو ایس اے ٹوڈے، 4 نومبر 2026؛ نکی ایشیا، 4 نومبر 2026