یوکرین پر روس کا بڑا حملہ: 289 ڈرون، اسپتال بھی نشانہ

0

یوکرین پر روس نے 3 نومبر 2026 کی رات ایک بڑا اور ہمہ گیر حملہ کیا جس میں 289 ڈرون، 17 بیلسٹک میزائل اور 59 کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق حملے کا بنیادی ہدف ملک کا توانائی کا نظام تھا اور نو علاقوں میں بجلی گھروں اور سب اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں ہنگامی بجلی کی کٹوتی کرنا پڑی۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری تھی اور اگلے ہفتے ابوظہبی میں یوکرین روس امن مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔

امدادی مرکز پر ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی

جنوبی یوکرین کے گاؤں کومیشوواخا میں امدادی مرکز اور پناہ گاہ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں پیر کو ہفتہ وار امداد کی تقسیم کے دوران لوگ جمع تھے۔ امدادی کارکن اور رضاکار ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حملے کی ابتدائی تفصیل ہماری اس خبر میں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3427

یوکرینی حکام کے مطابق رات کے حملوں میں اسپتال اور طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ خارکیف میں ایک شہری کلینیکل اسپتال پر براہ راست حملے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے اور کارڈیالوجی شعبہ، جہاں مریض زیر علاج تھے، کو نقصان پہنچا۔ خارکیف کے میئر کے مطابق اسپتال کی ایک ہزار سے زیادہ کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ ڈنیپرو کے علاقے میں ایک خاتون کو ملبے سے زندہ نکالا گیا جبکہ ایک شخص جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔

بجلی کا نظام شدید متاثر، کئی علاقوں میں بلیک آؤٹ

یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق رات بھر میں 10 علاقوں میں توانائی کے نظام پر 20 حملے کیے گئے۔ ملک کی سب سے بڑی نجی بجلی کمپنی ڈی ٹی ای کے کے تین تھرمل پاور پلانٹس شدید نقصان کے بعد بند ہو گئے۔ ژیتومیر کے علاقے میں منگل کی صبح ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد بجلی سے محروم تھے جبکہ اوڈیسا میں شیڈول بجلی کی کٹوتی نافذ کی گئی۔ دارالحکومت کیف اور کم از کم چھ دیگر علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق ریلوے بھی متاثر ہوئی اور مسافر بوگیوں، انجنوں اور ایک اسٹیشن کو نقصان پہنچا۔

روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے وینیتسیا، ڈنیپروپیٹرووسک اور خارکیف کے علاقوں میں بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو اس کے بقول یوکرینی فوج اور فوجی کارخانوں کو بجلی فراہم کرتی تھیں۔ دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات بھر میں 856 یوکرینی ڈرون مار گرائے جبکہ ماسکو کے میئر کے مطابق 493 ڈرون دارالحکومت کی طرف داغے گئے۔ یوکرین کی جانب سے یروسلاول میں ایک بڑی آئل ریفائنری میں آگ لگنے کی بھی اطلاع ہے جسے روسی حکام نے یوکرینی ڈرون حملے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

امن مذاکرات سے پہلے کشیدگی میں اضافہ

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے مطابق امریکا اگلے ہفتے 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں یوکرین اور روس کے وفود کو مذاکرات کی میز پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ روس انتخابات کے دن توانائی اور رسد کے نظام پر ایک اور بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی اعلان کیا ہے کہ 11 یورپی ممالک کے تقریباً 2,800 فوجی 9 سے 22 نومبر تک پولینڈ میں مشقوں میں حصہ لیں گے تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین میں تعینات ہونے والی کثیر ملکی فورس کی تیاری کی جا سکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے توانائی کے نظام پر حملوں کا سلسلہ یوکرین کے شہریوں کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشنوں اور عالمی تنازعات کی صورتحال پر ہماری یہ خبر بھی پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3489

ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، الجزیرہ، رائٹرز، 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *