ہیومن رائٹس واچ: ریو چھاپے میں 122 ہلاکتیں، باڈی کیمرے سے چھیڑ چھاڑ
ہیومن رائٹس واچ نے 28 اکتوبر 2026 کو جاری اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ “اے اسٹریٹیجی آف ڈیتھ” میں کہا ہے کہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں اکتوبر 2025 کے پولیس چھاپے کے دوران پولیس نے باڈی کیمروں سے چھیڑ چھاڑ کی اور طاقت کا غیر متناسب استعمال کیا، جس میں 122 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی کوئی فوٹیج ہی سامنے نہیں آئی، حالانکہ یہ برازیل کی تاریخ کا مہلک ترین پولیس آپریشن تھا۔
رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس چھاپے میں 117 غیر پولیس افراد اور 5 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ آٹوپسی ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا کہ غیر پولیس ہلاک شدگان میں سے 85 فیصد سے زیادہ سیاہ فام تھے۔ تحقیق کاروں نے ہزاروں گھنٹوں کی باڈی کیمرہ فوٹیج کا جائزہ لیا اور پایا کہ دوپہر تک آدھے سے زیادہ افسران کی ریکارڈنگ ختم ہو چکی تھی یا ان میں بڑے وقفے تھے، اور جیسے جیسے آپریشن مہلک ہوتا گیا، قابلِ استعمال فوٹیج مزید کم ہوتی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوٹیج کا غائب ہونا اور کیمروں سے چھیڑ چھاڑ کے وسیع شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہلاکتوں کو ریکارڈ ہونے سے روکنے کے لیے باڈی کیمروں کا دانستہ غلط استعمال کیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی بتایا کہ اسے ہلاکتوں کو دکھانے والی کوئی فوٹیج نہیں ملی، جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ گینگ ارکان نے مزاحمت کی تھی۔
“ہم کسی کو زندہ نہیں لے جانے والے تھے”
رپورٹ کے مطابق جنگلاتی علاقے ویکاریا میں گھرے ہوئے افراد نے ہتھیار ڈالنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ان کے اہل خانہ کو کالیں اور پیغامات موصول ہوئے تھے۔ ایک گواہ نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ ایک افسر نے ایک متاثرہ شخص کے والد سے کہا: “ہم کسی کو زندہ نہیں لے جانے والے تھے۔” یہ گواہ کا بیان ہے جو ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا ہے، اور اس کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
آپریشن کنٹینمنٹ کیا تھا؟
یہ چھاپہ، جسے “آپریشن کنٹینمنٹ” کا نام دیا گیا تھا، 28 اکتوبر 2025 کو ریو ڈی جنیرو کے الیماؤ اور پینہا فاویلا علاقوں میں کیا گیا تھا۔ اس میں 2,500 سے زیادہ سول اور ملٹری پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا تھا اور اس کا ہدف منشیات فروش گروہ کمانڈو ورمیلیو بتایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر 64 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی، لیکن اگلے روز رہائشیوں کو جنگلاتی علاقے میں درجنوں مزید لاشیں ملیں، جس کے بعد حتمی تعداد 122 تک پہنچ گئی۔
تفتیش پر سوالات
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق استغاثہ نے 19 افسران پر دیگر مبینہ جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں، لیکن غیر قانونی طاقت کے استعمال پر کسی افسر پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر ہلاکت کے وقت متعلقہ شخص سے لاحق خطرے کا تعین کرنا تفتیش کاروں کی ذمہ داری ہے، اور برازیل کے استغاثہ کو ہلاکتوں اور اس مہلک آپریشن کے فیصلوں کی مکمل تفتیش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب برازیل کی ریاستی حکومت نے اس آپریشن کو “نارکو دہشت گردی” کے خلاف جواب قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد گینگ کی علاقائی توسیع روکنا تھا۔ پولیس کا موقف ہے کہ گینگ ارکان نے مسلح مزاحمت کی تھی، اور ہیومن رائٹس واچ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ویڈیوز میں محلوں اور جنگل میں مسلح افراد نظر آتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
- اسپین میں ٹرین حادثے کی ہلاکتیں 68 تک پہنچ گئیں، کنٹرول سینٹر کی غلطی کا انکشاف: https://ntmnews.online/?p=2459
- امریکا: 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ پر فوڈ ایڈ مقدمہ: https://ntmnews.online/?p=2503
ذرائع: ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ “اے اسٹریٹیجی آف ڈیتھ” (28 اکتوبر 2026) اور متعلقہ خبروں کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ گواہوں کے بیانات ہیومن رائٹس واچ سے منسوب ہیں۔