ہرمز حملے کے بعد پاکستان میں گیس بحران گہرا

0

پاکستان کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر المیڈا پر آبنائے ہرمز کے قریب حملے کے بعد ملک میں گیس بحران گہرا ہو گیا ہے۔ قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے باعث پاکستان کو ڈیلیوری پہلے ہی معطل ہے، اور اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سردیوں میں گھریلو صارفین اور صنعتوں کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے دسمبر اور جنوری کے لیے دو ایل این جی کارگوز کے لیے بین الاقوامی بولیاں طلب کر لی ہیں، جبکہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس خریدنے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

المیڈا پر حملہ کیا ہوا

30 اکتوبر کی شام قطر کی کمپنی ناکلات کا ایل این جی ٹینکر المیڈا پاکستان کے لیے گیس لے کر آبنائے ہرمز کے قریب سے گزر رہا تھا جب اس پر نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا۔ جہاز کے عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ رہے، لیکن ٹینکر کو واپس قطر کی طرف موڑنا پڑا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے یکم نومبر کو حملے کی مذمت کی اور تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایران سے گزرنے کی منظوری کے بعد پاکستان کے لیے طے شدہ کسی شپمنٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان کو 18 ایل این جی کارگوز موصول ہوئے ہیں، جن میں سے کم از کم 11 قطر سے آئے۔ تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ایل این جی شپمنٹس اکتوبر میں جنگ سے قبل کی سطح کا صرف 30 فیصد رہ گئیں، جس سے اس راستے کی نازکی واضح ہو گئی۔

قطر کی سپلائی کیوں رکی

قطر انرجی نے جنگ کے دوران اپنی تنصیبات پر حملوں کے بعد مارچ میں فورس میجر کا اعلان کیا تھا، اور اب پاکستانی خریداروں کو بتایا گیا ہے کہ دسمبر کے آخر سے قبل کوئی ڈیلیوری نہیں ہوگی۔ پاکستان عام طور پر قطر سے 2016 اور 2021 میں طے شدہ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ اوسطاً 9 کارگوز وصول کرتا ہے، اور درآمدی گیس بجلی کی پیداوار، صنعت اور گھروں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پاکستان کو نومبر 2026 سے فروری 2027 تک سردیوں کے لیے 24 کارگوز کی ضرورت ہے، جن میں سے 9 بجلی اور 15 گھریلو ضروریات کے لیے ہیں۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 1.293 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جن میں سے 10 کارگوز مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے خریدے جائیں گے۔ پاکستان کے پاس ایل این جی ذخیرہ کرنے کی کوئی سہولت نہیں، اس لیے سپلائی مکمل طور پر جہازوں کے بروقت پہنچنے پر منحصر ہے۔

سردیوں میں گیس کی صورتحال

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بین الاقوامی کمپنیوں سے دسمبر اور جنوری کی ڈیلیوری کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت تقریباً 33 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے، جو قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت پاکستان کی ادا کردہ تقریباً 14 ڈالر کی قیمت سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی شدید متاثر ہوئی تو صنعتوں کو گیس کی فراہمی کم یا معطل کر کے گھروں کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل، کیمیکل اور شیشہ سازی کی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس متبادل ایندھن کے محدود ذرائع ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق گھریلو صارفین کو سپلائی پہلے ہی کھانے کے اوقات تک محدود کر دی گئی ہے۔

پہلے سے جاری مشکلات

جنگ کے اثرات پاکستان میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگست میں ایل این جی کی قلت اور ایک شپمنٹ میں تاخیر سے ملک میں بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3,600 میگاواٹ، یعنی معمول کا تقریباً 18 فیصد، کمی آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں رات کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کرنی پڑی۔ ستمبر تک گھروں میں گیس کی راشننگ تقریباً 9 گھنٹے یومیہ تک محدود ہو گئی تھی، جبکہ کاروباری اداروں نے بتایا کہ بجلی کی بندش سے پیداوار متاثر ہوئی اور برآمدی آرڈرز میں تاخیر ہوئی۔

متبادل راستے اور منصوبے

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پانچ شرائط رکھی ہیں، جن میں حالیہ امریکی پابندیوں کا خاتمہ، تیل کی چھوٹ کی بحالی، امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور نئے شپنگ راستوں کی تسلیم شامل ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے سپلائی متنوع بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ آذربائیجان کی کمپنی سوکار کے ساتھ معاہدے کے تحت نومبر سے فروری تک ہر ماہ ایک کارگو لینے کا منصوبہ ہے، جبکہ امریکہ کی حمایت یافتہ ایک گروپ نے پورٹ قاسم میں ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور 1,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ساتھ 4.4 ارب ڈالر کا ٹرمینل بنانے کی درخواست دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی سلامتی کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ آیا آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر بحال ہوتا ہے، یا ملک کو مہنگی متبادل سپلائی اور سخت راشننگ کے ساتھ سردیاں گزارنی پڑیں گی۔

مزید پڑھیں: امریکا نے خلیج عمان میں جہاز ناکارہ کر دیا — https://ntmnews.online/?p=4130 اور ایران نے میزائل رینج کی حد ختم کر دی — https://ntmnews.online/?p=4078

ماخذ: نکی ایشیا، عرب نیوز، تھرسڈے ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *