پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت — سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ میں بحث کا مطالبہ کر دیا

0

پولیس مقابلوں میں گرفتار ملزمان کی ہلاکت کا معاملہ اب سینیٹ تک پہنچ گیا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس موضوع پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث کے لیے کالنگ اٹینشن نوٹس جمع کرا دیا ہے۔

نوٹس میں کیا کہا گیا؟

Abb Takk کے مطابق، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنے نوٹس میں لائبہ کیس اور بہاولپور کے ایک واقعے کا حوالہ دیا ہے جن میں ملزمان مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ سینیٹر کے مطابق، پولیس حراست میں اس طرح کی اموات انتظامی ناکامی کی علامت ہیں۔

نوٹس میں پولیس فورس میں مبینہ بدعنوانی اور ناقص انتظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور عوام کے پولیس پر کم ہوتے اعتماد کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

پولیس اصلاحات کا مطالبہ

سینیٹر مرتضیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ سینیٹ میں پولیس اصلاحات پر تفصیلی بحث کی جائے تاکہ حراست میں اموات جیسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، پولیس کے احتساب اور اصلاحات کے بغیر عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔

حالیہ پولیس مقابلوں کے تناظر میں اہم

یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں ہفتے ہی وسیم عباس کیس کے مرکزی ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت اور کرک میں سی ٹی ڈی آپریشن کی خبریں سامنے آئیں تھیں۔ ان واقعات کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان اور قانونی ماہرین بھی پولیس مقابلوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ رپورٹ Abb Takk کی خبر پر مبنی ہے اور سینیٹر کے نوٹس میں بیان کردہ مؤقف ان کا اپنا ہے؛ پولیس یا حکومت کی جانب سے اس پر ابھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع: Abb Takk (22 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *