کرک میں 4 پولیس اہلکار شہید — سی ٹی ڈی ڈی ایس پی عمران الدین بھی شامل
کرک میں 4 پولیس اہلکار شہید — سی ٹی ڈی ڈی ایس پی عمران الدین بھی شامل
کرک — خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں جمعرات کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق مقابلے میں 2 مشتبہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
شہید اہلکار کون تھے؟
ڈی پی او کرک کے دفتر کے مطابق شہید ہونے والوں میں سی ٹی ڈی کرک کے ڈی ایس پی عمران الدین، لٹامبر تھانے کے ایس ایچ او افضل اعوان، ڈی ایس پی کے محافظ کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد شامل ہیں۔
ضلعی پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ مشتبہ عسکریت پسند بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے جالا چارپارہ میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں موجود ہیں۔ ابتدائی پولیس رپورٹس کے مطابق جیسے ہی ٹیم قریب پہنچی، مسلح افراد نے بھاری فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد شدید مقابلہ ہوا۔
علاقے میں سرچ آپریشن جاری
پولیس کے مطابق مقابلے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور ملحقہ راستوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی تاکہ فرار ہونے والے ملزموں کا پیچھا کیا جا سکے۔ واقعے کے بعد کے پی گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی مذمت کی اور شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان بحث جاری ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور میں ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا تھا۔
پولیس کے مطابق شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ کیس کی تفتیش اور ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
(حوالہ: دی نیوز، اسلام آباد پوسٹ — یہ خبر پولیس بیانات اور ان ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہے، تمام متن نئے الفاظ میں لکھا گیا ہے۔)