پاکستان میں 5G کی بڑی توسیع — 24 شہروں میں 1,700 سے زائد سائٹس فعال، اوسط رفتار 130 ایم بی پی ایس
اسلام آباد — وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے سپیکٹرم نیلامی کے بعد 24 بڑے شہروں میں 5G سروسز کی توسیع کر دی ہے۔
سیول، جنوبی کوریا میں گلوبل ڈیجیٹل و اے آئی سمٹ کے ایک اعلیٰ سطحی پینل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ چھ ماہ کے اندر 1,700 سے زائد سائٹس پر 5G سروسز شروع کر دی گئی ہیں، جن کی اوسط رفتار 130 ایم بی پی ایس ہے۔
مارچ 2026 کی تاریخی سپیکٹرم نیلامی
پاکستان نے مارچ 2026 میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامی کی، جس میں 509 ملین ڈالر کی لاگت سے 480 میگاہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا گیا۔ اس سے ٹیلی کام آپریٹرز کے مجموعی سپیکٹرم ہولڈنگز 274 میگاہرٹز سے بڑھ کر 754 میگاہرٹز ہو گئے — ایک ایسا کارنامہ جسے جی ایس ایم اے اور ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی (اے پی ٹی) نے بھی سراہا۔
وزیر کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ملک میں ڈاؤن لوڈ کی اوسط رفتار میں 68.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فائبر کیبل اور سمندری کیبلز کا جال
انفرااسٹرکچر کی بہتری بھی تیزی سے جاری ہے۔ ملک بھر میں 234,000 کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جا چکی ہے، جبکہ رائٹ آف وے (RoW) چارجز ختم کر دیے گئے ہیں تاکہ فائبر کی توسیع سستی اور تیز ہو۔
یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) نے بھی ملک بھر میں 17,000 کلومیٹر سے زائد فائبر بچھایا ہے۔ فائبر براڈبینڈ سے گھروں کی رسائی 2024 میں 30 لاکھ سے بڑھ کر اب 50 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی رابطوں کے لیے پاکستان چھ سب میرین کیبلز کے ذریعے عالمی نیٹ ورک سے جڑا ہے، جن کی مشترکہ گنجائش 17 ٹیرابٹس فی سیکنڈ سے زائد ہے۔ کیریک ڈیجیٹل کوریڈور پر بھی کام جاری ہے، جو وسطی ایشیا کو وسیع دنیا سے جوڑے گا۔
نوجوان آبادی اور ڈیجیٹل تبدیلی
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، اور ٹیلی کام صارفین کی تعداد 200 ملین سے تجاوز کر چکی ہے — یہی وجہ ہے کہ معیاری ڈیجیٹل سروسز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو وزیراعظم کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن کے تحت بنیادی طور پر نیٹ ورک چیلنج سمجھتا ہے — قابلِ اعتماد اور سستی کنیکٹیویٹی کے بغیر ڈیجیٹل تبدیلی ممکن نہیں۔
اگلا مرحلہ — سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور ٹاور فائبرائزیشن
وزیر نے بتایا کہ ریگولیٹرز سیٹلائٹ مواصلات کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جس سے براہِ راست ڈیوائس سروسز ممکن ہوں گی۔ موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کی شرح 15 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی ہے، اور حکومت کا ہدف اسے کم از کم 60 فیصد تک لے جانا ہے۔
(ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، میٹس گلوبل نیوز اور دی پاکستان کنیکٹ کی رپورٹس پر مبنی)