پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ڈکٹ کی سنچری، 221/9
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف ٹرائی سیریز میچ میں بین ڈکٹ کی شاندار سنچری کی بدولت 43 اوورز میں 9 وکٹوں پر 221 رنز بنا لیے ہیں۔ ڈکٹ نے 111 گیندوں پر 105 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 10 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، اور ان کی یہ پانچویں ون ڈے سنچری ہے۔ اننگز کے آخری اوورز میں گس اٹکنسن 19 رنز اور ہنری کروکومب 5 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
ڈکٹ کی سنچری: تنہا لڑائی
بین ڈکٹ نے اس وقت کریز سنبھالی جب انگلینڈ کی ٹاپ آرڈر لڑکھڑا گئی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں محتاط کھیل پیش کیا، پھر آہستہ آہستہ رنز کی رفتار بڑھائی۔ 104 گیندوں پر سنچری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بیٹ اٹھا کر ساتھی کھلاڑیوں کی تالیوں کا جواب دیا۔ یہ اننگز اس لیے بھی خاص ہے کہ دوسرے سرے سے وکٹیں مسلسل گر رہی تھیں، مگر ڈکٹ ایک سرا تھامے رہے اور ٹیم کو لڑنے کے قابل مجموعے تک لے گئے۔
ڈکٹ کی اننگز کا اختتام عرفات منہاس کی گیند پر ہوا، جب سلمان آغا نے ان کا کیچ تھاما۔ اس سے پہلے ڈکٹ سیم کرن کے ساتھ 93 رنز کی اہم شراکت بھی بنا چکے تھے، جس نے انگلینڈ کو ابتدائی نقصان سے باہر نکالا۔
انگلینڈ کا آغاز: پھر ابتدائی نقصان
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا، اور پاکستانی بولرز نے ابتدا میں ہی انگلینڈ پر دباؤ ڈال دیا۔ ٹام بینٹن صرف 4 رنز بنا کر شاہین کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جب کہ جو روٹ 5 رنز پر پویلین لوٹے۔ کپتان ہیری بروک صرف 1 رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے، اور یوں انگلینڈ کی ٹیم شروع میں ہی مشکلات کا شکار ہو گئی۔
پاکستانی فاسٹ بولرز نے نئی گیند سے سوئنگ اور رفتار کا بھرپور استعمال کیا۔ شاہین آفریدی نے 3 وکٹیں حاصل کیں — بینٹن، روٹ اور سیم کرن ان کا شکار بنے۔ عرفات منہاس نے ڈکٹ اور جیمی اوورٹن کو آؤٹ کیا، جب کہ ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے ول جیکس اور لیام ڈاسن کی وکٹیں لیں۔ حارث رؤف نے جارڈن کاکس کو آؤٹ کیا۔
مڈل آرڈر کی کوشش اور نچلا آرڈر
سیم کرن نے 52 گیندوں پر 42 رنز بنائے اور ڈکٹ کا بھرپور ساتھ دیا، مگر وہ بھی شاہین کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ول جیکس 13، لیام ڈاسن 5 اور جیمی اوورٹن 10 رنز بنا سکے۔ اس کے بعد گس اٹکنسن نے جارحانہ انداز میں 14 گیندوں پر 19 رنز بنائے، جن میں 2 چھکے شامل تھے، اور انگلینڈ کو 220 سے آگے لے گئے۔
یہ میچ پنک ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے، جس میں پاکستانی ٹیم گلابی کٹس پہن کر چھاتی کے سرطان سے آگاہی کی مہم کا پیغام دے رہی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم میں گلابی اسٹمپ اور آگاہی کے بینرز بھی نمایاں ہیں۔
فائنل کی دوڑ میں میچ کی اہمیت
پاکستان نے ٹرائی سیریز میں اب تک اپنے دونوں میچ جیتے ہیں، اور ایک اور فتح اسے 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں پہنچا دے گی۔ دوسری جانب انگلینڈ نے اپنے دونوں میچ ہارے ہیں — پہلے پاکستان سے 87 رنز سے شکست ہوئی، پھر سری لنکا نے اس کے 429 رنز کے بڑے مجموعے کا کامیابی سے تعاقب کر لیا۔ اس لیے انگلینڈ کے لیے یہ میچ جیتنا فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اننگز کے اختتام کے بعد پاکستان کی بیٹنگ شروع ہوگی، اور بابر اعظم، فخر زمان اور صائم ایوب جیسے بلے بازوں پر ہدف کے تعاقب کی ذمہ داری ہوگی۔ میچ کا نتیجہ رات گئے سامنے آئے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ڈکٹ کی 90 رنز کی اننگز — https://ntmnews.online/?p=1874
مزید پڑھیں: پاکستان کی پنک جرسی: بریسٹ کینسر آگاہی مہم — https://ntmnews.online/?p=1868
ذرائع: ای ایس پی این کرک انفو، ٹائمز آف انڈیا لائیو اسکور، 24 نیوز۔