ٹرمپ: وینزویلا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کسی دن امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز ٹیکساس کے شہر کورپس کرسٹی میں مڈٹرم انتخابات کی ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے وینزویلا سے 10 لاکھ بیرل مفت تیل کی پہلی کھیپ کی آمد کا بھی اعلان کیا۔

ریلی میں کیا کہا؟

خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے حامیوں سے خطاب میں کہا: “میں وینزویلا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جہاں ہمارا تعلق بہت، بہت اچھا، ایک عظیم تعلق بن گیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی امریکا کو دنیا کی تیل کی فراہمی کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول دیتی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا: “ہم اپنے لیے بہت سا تیل لا رہے ہیں، بہت سا۔ یہ ایک خوشحال ملک بن جائے گا، اور کون جانتا ہے؟ شاید کسی دن جلد ہی یہ ایک خوشحال 51ویں ریاست بن جائے۔ یہ ممکن ہے۔” بعد میں انہوں نے اس تجویز کو دہراتے ہوئے کہا: “آئیے اسے بناتے ہیں۔ آئیے اسے 51ویں ریاست بناتے ہیں۔ اور صدر کی بجائے ہم گورنر کے لیے انتخاب کریں گے۔ اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ جانتے ہیں، ان کے پاس بہت سا تیل ہے۔”

10 لاکھ بیرل مفت تیل

ٹرمپ نے ریلی میں دور ایک جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وینزویلا سے ایک ملین بیرل تیل موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ تیل ٹیکساس میں ہی ریفائن کیا جائے گا، بشمول کورپس کرسٹی میں۔ انہوں نے اسے “تاریخ کی سب سے بڑی تیل کی فتح” قرار دیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ یہ تیل کس بنیاد پر بھیجا گیا ہے یا ٹرمپ کی بتائی گئی تفصیلات درست ہیں یا نہیں۔ وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے اس مخصوص کھیپ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

پس منظر: مادورو کی گرفتاری کے بعد تعلقات

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں سال 3 جنوری کو امریکی فوجیوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو کاراکس میں ایک چھاپے کے دوران حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا تھا، جہاں ان پر مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔ اس کے بعد سے واشنگٹن اور کاراکس کی عبوری حکومت کے درمیان تیل کے معاہدے پر کام جاری ہے۔

اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون کو نارتھ امریکا بلیو انرجی پارٹنرز نامی نئی کمپنی میں 35 فیصد حصہ ملے گا، جو 65 ارب بیرل ثابت شدہ تیل کے ذخائر کی نگرانی کرے گی۔ وائٹ ہاؤس نے ستمبر میں کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پہلی کھیپ ممکنہ طور پر نومبر میں امریکی ذخائر تک پہنچے گی، حالانکہ ماہرین نے اس معاہدے کے قلیل مدتی اثرات پر شک ظاہر کیا ہے۔

تیل کی قیمتوں کا سیاسی پس منظر

ٹرمپ کا تیل پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صارفین ایران کے ساتھ جاری امریکی اسرائیل جنگ کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان ہیں، اور یہ معاملہ آئندہ مڈٹرم انتخابات میں ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ کینیڈا کے بارے میں بھی اسی نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کو ریاست بنانے کی تجویز فی الحال ایک ریلی کا بیان ہی معلوم ہوتی ہے، اس کی کوئی باضابطہ قانونی یا سفارتی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم اس بیان نے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکا اور کیوبا کے درمیان اقوام متحدہ میں جاری جھڑپ کی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2379 ۔

عالمی ردعمل کا انتظار

وینزویلا کی عبوری حکومت یا خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان پر باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی فراہمی اور علاقائی سیاست کے تناظر میں یہ بیان آنے والے دنوں میں بھی خبروں میں رہے گا۔ سعودی ریفائنری پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2349 ۔

ذرائع: الجزیرہ، دی ہندو بزنس لائن، انادولو ایجنسی، 28 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *