نیوزی لینڈ الیکشن: نیشنل آگے، حکومت کنگ میکر کے ہاتھ

0

نیوزی لینڈ کے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج میں حکمران نیشنل پارٹی اور اپوزیشن لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ 80 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد نیشنل پارٹی 29.4 فیصد ووٹوں کے ساتھ معمولی برتری پر ہے جبکہ لیبر پارٹی 29 فیصد پر ہے، اور چھوٹی جماعت اپرچونٹی پارٹی ممکنہ کنگ میکر بن کر ابھری ہے۔

نیوزی لینڈ میں ووٹنگ ہفتہ 7 نومبر کو صبح 9 بجے شروع ہوئی اور شام 7 بجے ختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی نتائج میں تین جماعتی حکمران اتحاد کو صرف ایک نشست کی اکثریت حاصل دکھائی دے رہی ہے۔ حتمی سرکاری نتائج 27 نومبر کو آئیں گے، جن میں بیرون ملک مقیم نیوزی لینڈرز کے ووٹ بھی شامل ہوں گے۔

ابتدائی نتائج کیا کہتے ہیں

ابتدائی گنتی کے مطابق نیشنل پارٹی کو 29.4 فیصد، لیبر کو 29 فیصد، گرین پارٹی کو 13.4 فیصد، اے سی ٹی کو 11 فیصد، نیوزی لینڈ فرسٹ کو 9.8 فیصد اور اپرچونٹی پارٹی کو 5.9 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

نشستوں کے حساب سے نیشنل پارٹی 42، اے سی ٹی 13 اور نیوزی لینڈ فرسٹ 12 نشستیں جیتنے کی راہ پر ہے، یوں حکمران اتحاد کی مجموعی تعداد 67 بنتی ہے۔ دوسری طرف لیبر 35، گرینز 16 اور تے پاتی ماوری 5 نشستوں کے ساتھ 56 پر ہے، جبکہ اپرچونٹی پارٹی کو 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ پارلیمنٹ کا حجم اوور ہینگ کی وجہ سے 129 سے 131 نشستوں تک بڑھ گیا ہے۔

اپرچونٹی پارٹی کنگ میکر کیسے بنی

اس الیکشن کی سب سے بڑی کہانی چھوٹی مرکزیت پسند جماعت اپرچونٹی پارٹی ہے، جو پہلی بار پارلیمنٹ میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ اس جماعت نے 5 فیصد کی حد عبور کر لی ہے اور اس کے پاس 7 نشستیں آنے کا امکان ہے، جس سے وہ حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

اپرچونٹی پارٹی کی رہنما چیولے وانگ نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک نیشنل پارٹی کے رہنما کرسٹوفر لکسن کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔ ان کی جماعت کا اہم ترین مطالبہ زمین کی قیمت پر مبنی ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے سب کو بنیادی آمدنی دینا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ پیٹر ڈن نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر دونوں بڑے بلاکس برابر رہے تو فیصلہ اپرچونٹی پارٹی کے ہاتھ میں ہوگا، اور حکومت سازی کے لیے ہفتوں تک مذاکرات چل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کو جنوری کے اوائل تک بیٹھنا ہے، اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ کرسمس تک نیوزی لینڈ میں واضح حکومت نہ بن سکے۔

“سپر مارکیٹ الیکشن” کیوں کہا گیا

اس الیکشن کو “سپر مارکیٹ الیکشن” کا نام دیا گیا کیونکہ مہنگائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں سب سے بڑا انتخابی مسئلہ رہیں۔ ایک سروے کے مطابق 64 فیصد ووٹرز کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سب سے اہم تشویش تھے، جبکہ صحت کی سہولتیں 45 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھیں۔

نیشنل پارٹی نے بجٹ کو سرپلس میں لانے اور قومی پنشن اسکیم کو وسعت دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ لیبر پارٹی نے سستی صحت اور سستی ٹرانسپورٹ کا وعدہ کیا تھا۔

لیبر رہنما کا ردعمل

لیبر پارٹی کے رہنما کرس ہپکنز نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ نیوزی لینڈ نے بول دیا ہے، اگرچہ یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا کہ اس نے کیا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلی پارلیمنٹ میں سب کو سمجھوتہ کرنا ہوگا، مل کر کام کرنا ہوگا اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنی ہوگی۔

نیوزی لینڈ میں ہر تین سال بعد عام انتخابات ہوتے ہیں اور مخلوط رکن متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر ایک مقامی امیدوار اور ایک سیاسی جماعت کو ووٹ دیتا ہے۔ تمام ووٹ ہاتھ سے گنے جاتے ہیں، مشین سے نہیں۔

ابتدائی نتائج حتمی نہیں ہیں؛ دیر سے آنے والے اور خصوصی ووٹ عموماً بائیں بازو کے حق میں جاتے ہیں، اس لیے حتمی تصویر 27 نومبر کو ہی واضح ہوگی۔

دنیا بھر میں انتخابات اور حکومت سازی کی تازہ ترین خبروں کے لیے پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا بیلٹ مقدمہ واپس لیا (https://ntmnews.online/?p=4023) اور شی جن پنگ، ٹرمپ اور پوتن کی سہ فریقی ملاقات (https://ntmnews.online/?p=3999)۔

ماخذ: الجزیرہ، نکی ایشیا، نیوزی لینڈ ہیرالڈ — 7 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *