ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا ووٹ مقدمہ واپس لے لیا
ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا میں تقریباً 20 ہزار متنازع میل ان بیلٹ گننے سے روکنے کے لیے دائر کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ 6 نومبر کو وفاقی عدالت میں رضاکارانہ طور پر مقدمہ ختم کرنے کی درخواست دائر کی، جو سپریم کورٹ سمیت عدالتوں سے مسلسل شکستوں کے بعد سامنے آئی۔
20 ہزار بیلٹ کا تنازع کیا تھا
محکمہ انصاف نے 15 اکتوبر کو کیلیفورنیا اور لاس اینجلس کاؤنٹی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ تقریباً 20 ہزار بیلٹ الگ رکھے جائیں جن کے بارے میں وفاقی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ ممکنہ طور پر غیر امریکی شہریوں کے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان بیلٹ کی شہریت کی تصدیق ہونے تک انہیں گنا نہیں جانا چاہیے۔ کیلیفورنیا کے حکام نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔
عدالتوں سے مسلسل شکست
امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیوڈ کارٹر نے انتظامیہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قدم انتخابی عمل میں خلل ڈالے گا اور ووٹروں پر منفی اثر ڈالے گا۔ نویں سرکٹ کی اپیل عدالت نے بھی دو بار انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیا۔ انتخابات سے ایک روز قبل پیر کو سپریم کورٹ نے بھی انتظامیہ کی ہنگامی درخواست کو ایک سطری غیر دستخط شدہ حکم کے ذریعے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد محکمہ انصاف نے اپنی درخواست میں لکھا کہ جس ریلیف کی ضرورت تھی وہ اب دستیاب نہیں رہا، کیونکہ بیلٹ گنے جا چکے ہیں اور انہیں الگ کرنا ممکن نہیں۔
مڈٹرم انتخابات کے بعد پس منظر
مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ مڈٹرم انتخابات کے چند روز بعد آیا، جن میں ڈیموکریٹس نے کیلیفورنیا کی تمام ریاستی نشستوں اور کانگریس کی بیشتر نشستوں پر واضح کامیابی حاصل کی۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس سے قبل شی، ٹرمپ اور پوتن کی ممکنہ ملاقات پر چین نے بات چیت کی تصدیق کی تھی، جو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ایک اور اہم خبر تھی۔ مقدمے کی واپسی کے ساتھ یہ قانونی جنگ ختم ہو گئی ہے، جسے جج کارٹر نے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش قرار دیا تھا۔
ماخذ: رائٹرز، دی نیوز، لاس اینجلس ٹائمز اور مائی نیوز ایل اے — 7 نومبر 2026